30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن حاشیۃ العلامۃ الشرف الغزی قال قال الشیخ الامام الاجل الشہید المختار للفتوی ان یحکم بکون الجھاز ملکا لاعاریۃ لانہ الظاہر الغالب [1]الخ |
اشباء سے بحوالہ حاشیہ علامہ شرف غزی مذکور ہے کہ شیخ امام اجل شہید نے فرمایا فتوٰی کے لئے مختار یہ ہے کہ جہیز کے مِلك ہونے کا فیصلہ دیاجائے نہ کہ عاریت ہونے کا،کیونکہ یہی ظاہر غالب ہے الخ(ت) |
ملك مدراس میں کہ واپس لینے کا رواج ہے اگر مثل عامہ بلادِ دُنیا وہاں بھی جہیز تملیکًا ہی دیتے اور تملیك ہی اس سے قصد کرتے ہیں اور یہ واپسی بعد موتِ عروس اس بنا پر ہوتی ہے کہ اُسے ہبہ تاحینِ حیات سمجھتے ہیں جب تو وہ مثل دیگر بلاد ہبہ کاملہ ہوجاتا ہے اور حینِ حیات کی شرط لغوو باطل بعد موت عروس ترکہ عروس قرار پاکر وارثانِ عروس پر منقسم ہوگا۔درمختار میں ہے:
|
جاز العمری للمعمرلہ لو ورثتہ بعدہ لبطلان الشرط[2]۔ |
ہبہ تاحینِ حیات جائز ہے معمولہ،کی ذندگی میں اس کے لئے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کے لئے ہوگا کیونکہ حین حیات کی شرط باطل ہے(ت) |
شوہر وغیرہ دیگر ورثہ عروس پر واپسی کاجبر ہرگز نہیں ہوسکتا،نہ اس کا اصلًا استحقاق،فان مواحد العاقدین من موانع الرجوع(کیونکہ بے شك عاقدین میں سے کسی ایك کی موت رجوع کے موانع میں سے ہے۔ت)ہبہ میں واپسی جہاں ہوبھی سکتی ہے تو اُسی وقت تك واہب و موہوب لہ،دونوں زندہ ہوں،جب اُن میں کوئی مرجائے تو اُسی شرح وقایہ وغیرہ تمام کتب میں تصریح ہے کہ اب رجوع نہیں،اور اگر وہاں تملیکًا نہیں دیتے بلکہ عاریت مقصود ہوتی ہے تو بیش یہ واپسی حق وبجا ومطابق شرع مطہر ہے اگر چہ دلہن کی حیات ہی میں واپس لے،
|
فان علی الید مااخذت حتی تردھا اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُکُمْ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا ۙ [3]۔ |
اس لئے کہ بے شك جو اس عورت نے لیا وہ بطور احسان وامانت ہے یہاں تك کہ وہ اسے لوٹادے(قرآن پاك میں ہے کہ)بے شك اﷲتعالٰی تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہلِ امانت کو ادا کرو۔(ت) |
یہاں تك چار سوال پیشین کا جواب تھا،سائل نے کلیۃً سوال کئے لہذا اُن کے جواب میں ان مسائل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع