30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قضی بکونہ ھدیۃ مع العلم بان الزوج مدین بالمھر فسقطت بجنبہ دلالۃ الدین فکذلك لوان العرف ھھنا عم وصم ولوالاب مدینالھا وجب القضاء بالتملیك وکان القول قولھا ھکذا ینبغی ان یفھم ھذا المقام واﷲالموفق وبہ الاعتصام۔ |
شوہر کو دیتی ہے پس یہ سب عرف ہی ہے جس نے ان اشیاء کے ہدیہ ہونے کا فیصلہ دیا باوجود اس بات کے معلوم ہونے کے کہ شوہر مہر کا مدیون ہے چنانچہ عرف کے مقابل دلالت دین ساقط ہوگئی،تو یوں ہی یہاں پر جب عرف عام وکثیر ہے اگر چہ باپ بیٹی کا مدیون ہو تملیك کا فیصلہ دینا واجب ہے اور بیٹی کا قول معتبر ہوگا۔اس مقام کو اسی طرح ہی سمجھنا چاہئے،اﷲتعالٰی ہی توفیق عطا فرمانے والا ہے اور اسی کی پناہ مطلوب ہے۔(ت) |
اور شك نہیں کہ اب عامہ بلاد وعجم کاعرف غالب وظاہر وفاش ومشتہر مطلقًا یہی ہے کہ جہیز جو دلہن کو دیاجاتا ہے دلہن ہی کی ملك سمجھا جاتا ہے بلکہ جہیز کہتے ہی اُسے ہیں جو اُس وقت بطور تملیك دلہن کے ساتھ بھیجا جاتا ہے۔
|
کمافی سبق من قول الدروالبحر والفتح والتجنیس والذخیرۃ ان الاب یدفع مثلہ جھاز الاعاریۃ١[1]۔ |
جیسا کہ در،بحر،فتح،تجنیس اورذخیرہ کے قول سے گزرا کہ بیشك باپ اس کی مثل بطور جہیز دیتا ہے نہ کہ بطور عاریت۔ (ت) |
ہمارے بلاد میں عمومًا شراء واوساط وعامہ اراذل سب کا یہی عرف ہے جہیز واپس لینے یا بیٹی کے قرض میں محسوب کرنے کوسخت عیب وموجبِ طعن سمجھیں گے تو یہاں علی العموم تملیك ہی مفہوم اور سماع دعوٰی عاریت بے بینہ معدوم۔ردالمحتار میں ہے:
|
ھذا العرف غیر معروف فی زماننا بل کل احد یعلم ان الجھاز ملك المرأۃ وانہ اذا طلقھا تأخذہ کلہ واذا ماتت یورث عنھا [2]اھ ملخصا وفیہ عن حاشیۃ الاشباہ للسید محمد ابی السعود |
یہ عرف ہمارے زمانے میں معروف نہیں کیونکہ ہرکوئی جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے،جب شوہر اس کو طلاق دے دے تو وہ تمام لے لیتی ہے اور اگر وُہ عورت مرجائے تو جہیز اس کے وارثو ں کو ملتا ہے،اھ ملخصًا،اور اسی میں سیّد محمد ابوالسعود کے حاشیہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع