30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
و اللوزوالدقیق والسکر والشاۃ الحیلۃ وباقیھا یکون القول فیھا قول امرأۃ لان المتعارف فی ذلك کلہ ان یرسلہ ھدیۃ فالظاہر مع المرأۃ لامعہ ولایکون القول لہ الا فی نحوالثیاب والجاریۃ [1]اھ وقال فی النھر الفائق واقول وینبغی ان لایقبل قولہ ایضا فی الثیاب المحمولۃ مع السکر ونحوہ للعرف[2] اھ وقال السید ابو السعود فی حاشیۃ الکنز بعد نقلہ واقول ینبغی ان یکون القول لھا فی غیر النقول للعرف المستمر٣[3]اھ وقال فی ردالمحتار قلت ومن ذلك مایبعثہ الیھاقبل الزفاف فی الاعیاد والمواسم من نحوثیاب وحلی وکذا ما یعطیھا من ذلك اومن دراھم اودنا نیر صبیحۃ لیلۃ العرس ویسمی فی العرف صبحۃ فانکل ذلك تعورف فی زماننا کونہ ھدیۃ لامن المہر ولاسیما المسمی صبحۃ فان الزوجۃ تعوضہ عنھا ثیابا ونحوھا صبیحۃ العرس [4]ایضا اھ فکل ذلك انما ھو لان العرف |
بادام،آٹا،شکّر،زندہ بکری اور دیگر تمام اشیاء مذکورہ میں عورت کاقول معتبر ہوگا ان تمام اشیاء میں عرف یہ ہے کہ بطور ہدیہ بھیجی جاتی ہیں لہذا ظاہر عورت کا مؤیدہے نہ کہ مرد کا،اور مرد کاقول کپڑوں اور لونڈی جیسی اشیاء کے ماسواء میں معتبر نہ ہوگا النہرالفائق میں فرمایا کہ میں کہتا ہوں شکّر وغیرہ کے ساتھ بھیجے ہُوئے کپڑوں میں بھی عرف کی وجہ سے مرد کاقول معتبر نہیں ہونا چاہئے،سیّد ابوالسعود نے حاشیہ کنز مین اس کو نقل کرنے کے بعد فرمایا میں کہتاہوں کہ عرف عام کی وجہ سے نقود کے غیر میں عورت کا قول معتبر ہونا چاہئے۔ردالمحتار میں فرمایا میں کہتاہوں کہ زفاف سے پہلے عیدوں اور موسموں پر جو کپڑے اور زیور کی مثل اشیاء شوہر بیوی کی طرف بھیجتا ہے وُہ بھی اسی قبیل سے ہیں،اور یونہی حکم ہے ان اشیاء اور دراہم ودنانیز کا جو شبِ زفاف کی صبح اپنی بیوی کودیتا ہے جس کو عرف میں صبحہ کانام دیاجاتا ہے کیونکہ ان تمام اشیاء کا ہمارے زمانے میں ہدیہ ہونا متعارف ہے نہ کہ مہر سے ہونا خصوصًا وہ جس کو صبحہ کہاجاتا ہے،اس لئے کہ عورت بھی شبِ زفاف کی صبح اس کے عوض میں کپڑے وغیرہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع