30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علیّ مائۃ دینار فاتخذت الجھاز بھا وقالت بل بمالك فالقول للاب جامع الفتاوٰی وکذٰا فی القنیۃ[1]۔ |
سو ۱۰۰ دینار قرض تھا میں نے اس سے جہیز بنایا ہے،اور بیٹی کہے کہ تونے اپنے مال سے بنایا ہے،تو باپ کا قول معتبر ہوگا،جامع الفتاوٰی،اور ایسا ہی قنیہ میں ہے۔(ت) |
اقول: وباﷲالتوفیق مگر اگر بحالت دین بھی عرف مقتضی تملیك ہوتو اسی پر نظر کی جائے گی کہ اب دلالتِ دین دلالتِ عرف کے معارض نہ رہی۔ہدایہ میں ہے:
|
(من بعث الی امرأتہ شیأ فقالت ھو ھدیۃ وقال الزوج ھو من المھر فالقول لہ)لانہ ھوالمملك فکان اعرف بجھتہ المتلیك کیف وان الظاہر انہ یسعی فی اسقاط الواجب(الا فی الطعام الذی یؤکل)فان القول قولھا والمراد منہ مایکون مھیأ للاکل لانہ یتعارف ھدیۃ فاما فی الحنطۃ و الشعیر فالقول قولہ لما بینا٢ [2]اھ فانظر کیف رجح دلالۃ العرف علی دلالۃ انہ مدین فالظاہرمنہ السعی فی اسقاط الدین ثم زاد الشارحون فسایرو العرف کیفما سار قال المحقق فی الفتح ھذا والذی یجب اعتبارہ فی دیارنا ان جمیع ماذکر من الحنطۃ
|
شوہر نے عورت کوکوئی شیئ بھیجی عورت کہتے ہے وہ ہدیہ ہے اور شوہر کہتا ہے وہ مہر سے ہے تو شوہر کا قول معتبر ہوگا کیونکہ وہی مالك بنانے والاہے لہذا وہ تملیك جہت کو بہتر طور پر سمجھتا ہے اور اس کا قول کیسے معتبر نہ ہوگا جبکہ ظاہر یہی ہے کہ وُہ اس شیئ کو ساقط کرنے کی کوشش کرے گا جو اس پر واجب ہے سوائے اس طعام کے جوکھایا جاتا ہے کیونکہ اس میں عورت کا قول معتبر ہوگا،اس سے مراد وہ طعام ہے جو کھانے کے لئے تیار کیا گیا ہو کیونکہ ایسا طعام بطور ہدیہ ہی متعارف ہے،لیکن گندم اور جَو وغیرہ کی صورت میں شوہر کا قول معتبر ہوگا اسی بناء پر جس کو ہم نے بیان کیا،پس دیکھ کہ دلالت عرف کو کیسے ترجیح حاصل ہوئی اس دلالت پر کہ وُہ مدیون ہے اور ظاہر یہ ہے کہ وُہ اسقاطِ دین میں سعی کرے گا پھر شارحین نے اس پر اضافہ کیا کہ عرف کے ساتھ چلو جدھر لے جائے محقق نے فتح میں فرمایا اور وُہ جس کا اعتبار ہمارے علاقے میں واجب ہے یہ ہے کہ بیشك گندم، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع