30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(جیسا کہ ہمارے علاقے میں ہے)اور اگر عرف مشترك ہو جیسا کہ مصر اور شام میں،توباپ کا قول معبتر ہوگا۔(ت)اسی میں ہے:بہ یفتی(اسی کے ساتھ فتوٰی دیا جاتا ہے۔ت)بحرالرائق میں ہے:
|
فی فتح القدیروالتجنیس والذخیرۃ المختار للفتوی ان القول للزوج ولھا اذاکان العرف مستمّر ا ان الاب یدفع مثلہ جہاز الاعاریۃ کما فی دینارنا وان کان مشترکا فالقول قول الاب [1]۔ |
فتح القدیر،تجنیس اور ذخیرہ میں کہ فتوٰی کے لئے مختار یہ ہے کہ بیشك قول بیٹی اور اس کے شوہر کا معتبر ہوگا جبکہ عرف یہی رائج ہوکہ ایسا مال باپ بطور جہیز دیتا ہے نہ کہ بطور عاریت،جیسا کہ ہمارے علاقے میں ہے۔اور اگر عرف مشترك ہوتو باپ کا قول معتبر ہوگا۔(ت) |
عقودالدریہ میں ہے:
|
حیث کان العرف مشترکا فالقول للام مع یمینھا وقد ذکران کل من کان القول قولہ یلزمہ الیمین الا فی مسائل اوصلھا فی شرح الکنزالی نیف وستین مسئلۃ لیست ھذھ منھا وافتی قاریءَ الھدایۃالقول قول الاب والام انھما لم یملکا ھا انما ھو عاریۃ عند کم مع الیمین [2]مختصرا۔ |
جہاں عرف مشترك ہو تو وہاں ماں کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا۔تحقیق مذکور ہے کہ ان تمام صورتوں میں جن میں کسی کا قول معتبر ہو اُسے یمین لازم ہے سوائے چند مسائل کے جنہیں شرح کنز میں ساٹھ سے کچھ اوپر تك پہنچایا،مسئلہ جہیز ان مسائل میں سے نہیں(یعنی اس میں قول قسم کے ساتھ ہی معتبر ہوگا)اور قاری ہدایہ نے فتوٰی دیا کہ قول ماں باپ کا قسم کے ساتھ معتبر ہوگا کہ بے شك اُنہوں نے بیٹی کو جہیز کامالك نہیں بنایا اور تمہارے نزدیك عاریت ہے اھ مختصرًا(ت) |
پھرعرف جن خصوصیتوں کے ساتھ ہو سب کے مراعات واجب مثلًا شرفا میں عرف تملیك ہے کم درجہ کے لوگوں میں مشترك تو صرف شرفا ہی کی جانب سے تملیك سمجھی جائے گی یا حسب حیثیت ایك مقدار خاص تك جہیز دینے کا عرف ہو اور زیادہ ہوتو عاریت،تو جب اُسی مقدار تك دیا گیا ہو تملیك سمجھیں گے۔ بحرالرائق میں ہے:
|
قال قاضی خاں وینبغی ان یکون الجواب علی التفصیل ان کان الاب من الشراف والکرام لایقبل قولہ انہ عاریۃ |
قاضی خاں نے فرمایا کہ جواب بالتفصیل ہونا چاہئے،اگر باپ اشراف ومعززین میں سے ہے تواس کا یہ قول قبول نہیں کیا جائے گا کہ یہ(جہیز)عاریت ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع