30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایسے ہی ہے جیسے لفظ کے اعتبار سے مشروط ہو۔ت)کہتے ہیں کتبِ فقہ میں دونوں صورتوں کی مثالیں بکثرت موجود۔یہ مسئلہ جہیز بھی صورت ثانیہ سے ہے کہ والدین اپنے مال سے دلہن کو جہیز دیتے ہیں اور دینا ہبہ وعاریت دونوں کو محتمل،تو بنظر اصل حکم مطلقًا اُنہیں کا قول معتبر ہونا چاہئے تھا۔
|
فان الاصل ان الدافع ادری بجھۃ الدفع وایضااذا احتمل امران تعین الاقل اذھو المتیقن والی ھذانظر الامام شمس الائمۃ السرخسی فاختار ان القول للاب مطلقا۔ |
بے شك اصل یہ ہے کہ دینے والادینے کی جہت کو بہتر جانتا ہے نیز جب دو عمر محتمل ہوں تو ان میں سے اقل متعین ہوتا ہے کیونکہ وہی یقینی ہوتا ہے۔امام شمس الائمہ سرخسی نے اسی کی طرف نظر فرمائی اور اختیار فرمایا کہ قول مطلقًا باپ ہی کا معتبر ہے۔(ت) |
مگر عرف بلاد مظہر قصد ومراد ہوتا ہے جہاں عرف غالب تملیك ہو وہاں دعوٰی عاریت نامقبول اور جہیز دینا تملیك ہی پر محمول جب تك گواہان شرعی سے اپنا عاریۃً دیناثابت نہ کریں،اور جہاں عرفِ غالب عاریت،ہو یا دونوں رواج یکساں وہاں آپ ہی ان کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا اورایسی جگہ جہیز دینا تملیك سمجھا جائے گا۔"مشیاعلی الاصل المار لعدم ما یحمل علی العدول عنہ"(اصل رائج پر چلتے ہوئے کیونکہ اس سے عدول پر برانگیختہ کرنے والی کوئی شیئ موجود نہیں۔ت)یہی صحیح و معتمد و مختار للفتوی ہے بل ھو التوفیق بین الاقوال فاذاحقق فالیہ الماٰل(بلکہ مختلف اقوال میں اسی سے تطبیق حاصل ہوئی جب اس کی تحقیق ہوگئی تو اسی کی طرف لوٹنا لازم ہے۔ت)درمختار میں ہے:
|
جھز ابنتہ ثم ادعی ان ما دفعہ لھا عاریۃ وقالت ھو تملیك اوقال الزوج ذلك بعد موتھا لیرث منہ و قال الاب او ورثتہ بعد موتہ عاریۃ فالمعتمد ان القول للزوج ولھا اذاکان العرف مستمرا ان الاب یدفع مثلہ جہازا لاعاریۃ واماان مشترکا کمصر و الشام فالقول للاب[1]۔ |
کسی شخص نے اپنی بیٹی کو جہیز دیا پھر دعوٰی کیا کہ اس نے جو کچھ دیا وہ بطور عاریت دیا،جب کہ لڑکی کہتی ہے کہ بطور تملیك دیا تھا،یا اس کے مرنے کے بعد یہی بات اس کا شوہر کہے تا کہ وُہ جہیز سے بطور میراث حصّہ پائے،اور لڑکی کا باپ یا اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کہیں کہ یہ رعایت کے طور پردیا تھا تو معتمد یہی ہے کہ قول بیٹی اور اس کے شوہر کا مانا جائے گا جبکہ عرف یہی رائج ہو کہ ایسا مال باپ پانی بیٹی کو بطور جہیز دیتا ہے نہ کہ بطور رعایت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع