30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(٢)شرع میں رواجِ ملك کو مداخلت ہے کیا۔
(٣)جہیز میں جو سامان لڑکی کو دیا جاتا ہے وُہ عاریۃً سمجھا جائے گا یا تملیکًا۔
(٤)شرح وقایہ جلد سوم میں ہبہ واپسی کا حکم ہے کیا ہبہ جہیز اسی قسم کا ہبہ ہے حسبِ دعوٰی مدعیہ۔
(٥)جو شیئ منجانب مدعیہ خاص مدعاعلیہ یعنی داماد کو وقت شادی کے ملی ہے اُس کے واپس پانے کا کیا مدعیہ کو حق ہے۔
(٦)جو جہیز یا سامان مدعا علیہ نے وقتِ شادی اپنی بی بی کو دیا اس پر بھی حق واپس لینے کا مدعیہ کا ہے یا نہیں۔
(٧)متوفیہ کے حکم سے زیورات وقتِ بیماری رہن رکھ کر صَرف ہوا اُس کے چُھڑانے کا کون ذمہ دار ہے۔بیّنواتوجروا۔
الجواب:
جواب سوال اوّل تا چہارم
حکم شرع مطہر کے لئے ہے عرف ورواج وغیرہ کسی کو حکم میں کُچھ دخل نہیں ان الحکم الّا ﷲ(نہیں ہے حکم مگر اﷲتعالٰی کا۔ت)ہاں بعض احکام کو شرع مطہر اپنے حکم سے عرف پر دائر فرماتی ہے خواہ یُوں کہ اگر یہ شے معروف ورائج ہوجائے تو اس کے لئے یہ حکم ہے ورنہ یہ جس طرح وقف منقول کہ اشیائے منقولہ میں جس کا وقت معروف ہوجائز،ورنہ نہیں،یا استصناع یعنی بے طریق سلم معدوم چیز اُجرت دے کر بنوانا اس میں جن اشیاء کے بنوانے کا رواج ہو،جائز،ورنہ نہیں،یا شرط البیع کہ جو شرط مفسد معروف ہوجائے متحمل ہے ورنہ نہیں الٰی غیرذٰلك ممّاصرحوابہ فی الکتب(اس کے علاوہ جس کی تصریح انہوں نے کتاب میں فرمائی۔ت)خواہ یُوں کہ حکم فی نفسہٖ حاصل اور عُرف اُس کی صورت کا بتانے والا مثلًا مرتہن کا شیئ مرہون سے انتفاع اگر باذنِ راہن بے شرط ہو،جائز،ورنہ حرام۔اب اگرعرف ورواج ہو کہ بے طمع نفع بمرہون قرض نہیں دیتے،جیسے ہمارے زمانہ میں،تو مطلقًا حکمِ حُرمت دیا جائے گا کما فی الشامی عن الطحطاوی وقد افتیت بہ مرارا(جیسا کہ شامی میں طحطاوی کے حوالے سے ہے اور تحقیق میں اس پر کئی بار فتوٰی دے چکا ہوں۔ت)یہاں عرف نے بتادیا کہ صورتِ شرط ہے نہ یہ کہ قرض ورہن خالص واقع ہوئے اور اُس کے بعد راہن نے برضائے خود مرتہن کو اجازتِ انتفاع دی،ایسی ہی جگہ المعروف کالمشروط(معروف مشروط کی طرح ہوتا۔ت)یا المعھود عرفا کالمشروط لفظا(جو عرف کے اعتبار سے معہود متعین ہو وُہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع