30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٨٠تا ۸٦:از بیجناتھ پارا رائے پور ممالك متوسط مرسلہ شیخ اکرم حسین صاحب متولی مسجد ودبیز مجلس انجمن نعمانیہ ٢٨ربیع الآخر ١٣١٤ھ
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم حامدًا ومصلّیًا
(فیض النساء بیگم مدعیہ بنام حسام الدین داروغہ جنگل مدعا علیہ)
دعوٰی واپس پانے سامان جہیز ہرقسم کپڑے وزیورات وغیرہ متروکہ لڑکی متوفیہ مسمّاۃ فیض النساء بیگم نے اپنی سوتیلی لڑکی خدیجہ بی بی کی شادی حسام الدین کے ساتھ کردی،ڈیڑھ برس بعدوُہ لڑکی مرگئی اور اُس کے بطن سے ایك لڑکا پیدا ہُواتھا بعمرایك سال بعد چار مہینے مرنے ماں کے وُہ لڑگا مرگیا،فیض النساء بیگم کا دعوٰی ہے کہ کُل سامان جہیز زیور وغیرہ جو وقت شادی خدیجہ بی بی مرحومہ کو جہیز دی تھی واپس ملے اور صرف سامان جہیز وغیرہ میں اپنے پیسے سے کرنے کے سبب میں واپس پانے کی حقدار ہوں سامان جہیز واپس ملنے کا رواج ملك مدراس میں جاری ہے۔جواب حسام الدین یہ ہے کہ زیورات متوفیہ کے حکم سے اسی کے دوا معالجہ میں رہن رکھ کر خرچ ہُوا مجھ کو اس قدر وسعت نہ تھی کہ اس قدر عرصہ دراز کی بیماری میں اس کثیر صرفہ کے بار کا متحمل ہوسکتا اس کے علاوہ اور بھی بہت سا میرا ذاتی خرچ ہُوا ہے متوفیہ کا لڑکا متوفیہ کے کثیر صرفہ کے بار کا متحمل ہوسکتا اس کے علاوہ اور بھی بہت سا میرا ذاتی خرچ ہُوا ہے متوفیہ کا لڑکا متوفیہ کے مرتے وقت زندہ تھا،ماں کے جائداد کا لڑکا مالك ہوا اور بعد مرنے لڑکے کے میں باپ اس کا وارث ہوں،متوفیہ کی سوتیلی ماں کا کوئی حق نہیں ہے۔علمانِ دین اور مفتیانِ شرع متین مسائل ذیل میں کیا فرماتے ہیں:
(١)مُلك مدراس میں متوفیہ لڑکی کا جہیز واپس لینے کا رواج ہے فرمائیے شرع میں کہاں حکم ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع