30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پر نافذ ہوجاتی ہے۔ت) غایت یہ کہ مال مشترك سے خرید نے میں بکر باقی ورثہ کے حصص کا ذمہ دار رہے گا کما نقلنا فی مواضع منا فتاوٰنا عن ردالمحتار(جیسا کہ ہم نے ردالمحتار سے اپنے فتاوٰی میں متعدد مقامات پر نقل کیا ہے۔ت) پھر اس قسم یعنی مملوکات بکر پر دُلہن کا قبضہ قبضہ امانت ہوگا لحصولہ بتسلیط المالک(کیونکہ اس قبضہ کا حصول مالك کی طرف سے قدرت دینے سے ہوا۔ت) پس جس چیز کو دلہن نے استہلاك نہ کیا بغیر اس کے فعل کے چوری وغیرہ سے ہلاك ہوگئی اُس کا تاوان دلہن پر نہ آئے گا اور جو اس کے فعل وتعدی سے تلف ہُوئی اس کی قیمت بکر کے لئے دلہن کے ذمّہ واجب ہوگی لان الامین ضمین اذاتعدی(اس لئے کہ امین جب امانت میں تعدی کرے تو ضامن ہوگا۔ت) اور جو باقی ہو وہ بیعنہٖ بکر کو واپس دے اور قسم اول یعنی عین متروکہ سے جو کچھ جہیز میں دیا گیا اس پر دلہن کا ہاتھ دست ضمان ہوگا یعنی کسی طرح اس کے پاس ہلاك ہوجائے مطلقًا تاوان آئے گا،
|
وذلك لان بکرا قدتعدی علی حصص الشرکاء بتجہیز الاخت من مال مشترك وتسلیمہ الیھا جہاز التلبس وتستعمل وبالتصرف تستقبل وکل ید مترتبۃ علی ید ضمان ید ضمان۔ |
اور یہ اس لئے ہے کہ بیشك بکر نے شراکاء کے حصوں میں تعدی کی کیونکہ اس نے مال مشترك سے بہن کا جہیز بناکر بہن کے حوالے کیا تاکہ وہ اس کے پہنے اور استعمال کرے اور اس میں مستقل تصرف کرے قبضہ جو قبضہ ضمان پر مترتب ہو وہ قبضہ ضمان ہی ہوتا ہے۔(ت) |
پس باقی وارث جنہوں نے اذن نہ دیامختار رہیں گےکہ جو کچھ ہلاك ہو ا چاہیں اپنے حصوں کا تاوان بکر سے لیں لانہ الغاصب(کیونکہ وُہ غاصب ہے۔ت) چاہیں دلہن سے لانھا کغاصبۃ الغاصب(کیونکہ وہ گویا غاصب سے غصب کرنے والی ہے۔ت) فتاوٰی خیریہ میں ہے:
|
الید المترتبۃ علی ید الضمان یدضمان فلرب البھیمۃ ان یضمن من شاء[1]الخ۔ |
قبضہ ضمان پر مترتب ہونے والا قبضہ بھی قبضہ ضمان ہی ہوتا ہے لہذا چار پائے کے مالك کواختیار ہے کہ جس سے چاہے ضمان لے الخ(ت) |
اور وہ بکر یا دُلہن جس سے ضمان لیں اُسے دُوسرے پر دعوٰی نہیں پہنچتا :
|
اما بکر فلانہ الغاصب وانما قبض العروس بتسلیطہ و اما العروس فلانھا قبضت |
لیکن بکر تو اس لئے کہ وُہ غاصب ہے بے شك دلہن نے اس کے قدرت دینے سے قبضہ کیا اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع