30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والبدل ھھنا کما علمت مجہول فلم ینعقد البیع اجماعا۔ |
اگر چہ بعض کے نزدیك جائز ہے اور یہی مفتی بہ اور ارجح التصحیحین ہے،مگر اس کو جائز ماننے والوں کے نزدیك بیان بدل، ضروری ہے اور یہاں پر جیسا کہ تُوجانتا ہے بدل مجہول ہے لہذا بالاجماع یہ بیع منعقد نہ ہوگی۔(ت) |
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
|
الشرط فی بیع التعاطی الاعطاء من الجانبین عند شمس الائمۃ الحوانی کذافی الکفایۃ وعلیہ اکثر المشائخ و فی البزازیۃ ھو المختار کذا فی البحرالرائق والصحیح ان قبض احد ھما کاف لنص محمد رضی اﷲتعالٰی عنہ علی ان بیع التعاطی یثبت بقبض احد البدلین وھذا ینتظم الثمن والمبیع کذا فی النھر الفائق وھذا القائل یشترط بیان الثمن لانعقاد ھذا البیع بتسلیم المبیع وھکذا حکی فتوی الشیخ الامام ابی الفضل الکرمانی کذافی المحیط[1]۔ |
بیع تعاطی میں دونوں جانبوں سے اعطاء امام شمس الائمہ حلوانی کے نزدیك شرط ہے یونہی کفایہ میں ہے، اور اسی پر اکثر مشائخ ہیں، بزازیہ میں ہے کہ یہی مختار ہے، البحرالرائق میں بھی ایسے ہی ہے، اور صحیح یہ ہے کہ ایك کا قبضہ کافی ہے کیونکہ امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے نص فرمائی کہ بیع تعاطی بدلین میں سے ایك پر قبضہ کرنے سے ثابت ہوجاتی ہے اور یہ ایك پر قبضہ ثمن ومبیع دونوں کا شامل ہے جیسا کہ النہر الفائق میں ہے اور یہ قائل تسلیم مبیع کے ساتھ اس بیع کے منعقد ہونے کے لئے بیان ثمن کی شرط لگا تا ہے، اور اسی طرح شیخ امام ابوالفضل کرمانی کا فتوٰی نقل کیا گیا جیسا کہ محیط میں ہے۔(ت) |
پس واضح ہو کہ جہیز دینے میں کسی عقد شرعی کی حقیقت توحقیقت صورت بھی نہ تھی تو یہ دینا اصلًا کوئی اثر تبدل ملك پیدا نہ کرے گا' بلکہ وُہ مال جس کی مِلك تھا بدستور اسی کی مِلك پر رہے گا۔ اب معرفت مالك درکار ہے جو چیزیں عین متروکہ تھیں مثلًا زیور، برتن، کپڑے وغیرہا کہ مورثوں نے چھوڑے بعینہٖ جہیز میں دئے گئے وُہ جیسے سب وارثوں میں پہلے مشترکہ تھیں اب بھی مشترك رہیں گی اور جو اشیاء بکر نے خرید کردیں وہ سب مطلقا ً مِلك بکر تھیں اور اب بھی خاص اسی کی مِلك پر ہوں گی اگر چہ مال مشترك سے خریدی ہوں لماعلم ان الشراء اذا وجد نفاذا علی الشاری نفذ (کیونکہ یہ معلوم ہوچکا کہ بیشك شراء جب نفاذ پائے تو مشتری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع