30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انہ اجناس مختلفہ میں قسمت جمع بے تراضی ممکن یہاں تك کہ قاضی کو بھی اس کا اختیا ر نہیں کما نصواعلیہ فی الکتب جمیعا (جیسا کہ تمام کتابو ں میں اس پر نص فرمائی گئی۔ت) تو غایت درجہ اس قدر رہا کہ بکر نے دیتے وقت اپنے دل میں سمجھ لیا کہ یہ ہم علی الحساب دیتے ہیں جو کچھ جہیز کی لاگت ہے دُلہن کے حصہ میں مجرا لیں گے صرف اتنا سمجھ لینا کوئی عقد شرعی نہیں ہوسکتا قسمت نہ ہونا توظاہر لمامر(جیساکہ گزرا۔ت)صُلح وتخارج یُوں نہیں کہ کُل ترکہ یا اُس کی کسی قسم سے حصہ دلہن کا ساکت نہ کیا گیا نہ دلہن کے خیال میں ہوگا اب فلاں قسم طرقہ میں میرا کوئی دعوٰی نہ رہا اگرچہ میرا حصہ مقدار جہیز سے زائد نکلے، نہ ایسا امر بے صریح رضامندی فقط ایك طرف کے خیال پر عقد ٹھر سکتا ہے،
|
فان العقد ربط ولا بدفی الربط من شیئین ۔ |
کیونکہ عقد ربط ہوتا ہے اور ربط میں دو٢چیزوں کا ہونا لازم ہے۔(ت) |
معہذا عند الحساب جہیز کی لاگت میں اختلاف پڑنا ممکن بلکہ مظنون تو قطع نزاع جس کے لئے صلح تخارج کی وضع ہے حاصل نہ ہوا،
|
وما من شیئی خلاعن مقصودہ الابطل وجہالۃ المصالح عنہ انما لاتمنع جواز الصلح اذالم تفض الٰی المنازعۃ والامنعت۔ |
اورنہیں ہے کوئی شیئی اپنے مقصود سے خالی مگر وہ باطل ہے، اور جس شیئی پر صلح ہو رہی ہے اس کامجہول ہونا اگر موجبِ نزاع نہ ہو تو جواز صلح سے مانع نہیں ورنہ مانع ہے۔ (ت) |
درمختار میں ہے :
|
الصلح شرعا عقد یرفع النزاع ویقطع الخصومۃ [1]۔ |
صلح شرعًا ایسا عقد ہے جو نزاع کو رفع اور خصومت کو قطع کرتا ہے۔(ت) |
نہایہ میں ہے :
|
جھالۃ تفضی الی المنازعۃ تمنع جواز الصلح اھ [2]ملخصین۔ |
جو جہالت منازعت تك پہچائے وُہ جواز صلح سے مانع ہوتی ہے اھ ملخصین(ت) |
رہی بیع وہ اگر بتصریح ایجاب وقبول بھی ہوتی مثلا بکر کہتا ہے میں نے یہ جہیز بعوض ان اشیائے متروکہ کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع