30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طرح مالك کردینا مقصود نہیں ہوتا وہ بدستور مِلك والدین پر ہے بہو کا اُس میں کچھ حق نہیں کما تقدم فی استمتاع المرأۃ بمشری الزوج(جیسا کہ عورت کے لئے شوہر کے خریدے ہُوئے مال سے نفع حاصل کرنے کی صورت میں گزرچکا ہے۔ ت)اس کے احکام وہ ہی احکام عاریت ہیں کہ مفصلًامذکور ہوئے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٧٨: ١٥رمضان المبارك ١٣١١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ مسمٰی زید نے اپنے پسر ابومحمد کی شادی ساتھ حبیبہ بنت خالد کے بصرف زر اپنے کے کی خالد نے بطریق جہیز اسباب و زیور وغیرہ دے کر زوجہ ابومحمد کو بدستور معروف رخصت کیا بعد چند روز کے زید نے اپنی خوشی سے ابومحمد اور اس کی زوجہ کا کھانا پینا علیحدہ کیا اُس وقت اُس کی زوجہ نے اپنا مال واسباب جو اس کے والدین نے اُسے دیا تھا زید یعنی خسر سے طلب کیا زید نے کہا وہ مال ہمارا ہے ہم نے بالعوض اُس روپے کے جو شادی ابومحمد میں صَرف ہوا رکھ لیا ہے اب فرمائیے کہ عند الشرع اس مال واسباب کی مالك زوجہ ابومحمد ہے یا زید والد ابومحمد ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب:
وُہ زیور و اسباب کہ زوجہ ابومحمد اپنے جہیز میں لائی خاص اُس کی مِلك ہے ابومحمد یا اُس کے باپ کا اس میں کچھ حق نہیں اور وُہ روپیہ کہ زید نے ابومحمد کی شادی میں صَرف کیا بحکم عرف شائع وعام تبرع واحسان قرار پائےگا کہ زید اس کا مطالبہ کسی سے نہیں کرسکتا اور اگر قرض بھی ٹھہرے مثلًا ابومحمد بالغ نے خود استدعا کی کہ میری شادی کے مصارف آپ میری طرف سے ادا کردیجئے میں واپس دُوں گا، یا زید ہی نے اس سے کہا کہ یہ صرف تیری طرف سے بطور قرض کروں گا، اُس نے قبول کرلیا، یا ابومحمد نابالغ تھا زید نے قبلِ صَرف لوگوں کو گواہ کرلیا کہ یہ خر چ میں طرف ابومحمد بطور قرض اٹھاتا ہوں میں اس سے واپس لُوں گا، اور اس صورت میں صرف وہی کیا جو رسم وعادت وحیثیت کے موافق تھا، ان سب صورتوں میں جو اُٹھایا وہ قرض ہے مگر اُس کا تقاضا ابو محمد سے کرے، زیور واسباب کو مِلك زوجہ ہے کہ اُس روپے کے عوض کیونکر لے سکتا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع