30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
استعمالًامعھودا[1] |
استعمال عادت وعرف کے مطابق ہو۔(ت) |
اور اگر خلاف عرف وعادت بے طوری سے پہننے میں خراب کیا مثلًا بھاری جوڑے یا موتیوں کے نازك جڑاؤ گہنے راتوں کو پہنے سویا کی، یا صرف آنے جانے میں پہننے کاعرف تھا یہ گھر میں پہنتی ہے تو نقصان کا تاوان دے گی، یُونہی اگر بے احتیاطی بے پروائی سے گمادیا یابعد طلاق اپنے گھر لے آئی اور یہاں کسے طرح تلف ہوگیا تو قیمت دینی آئے گی،
|
لان العاریۃ کانت موقتۃ دلالۃ الی بقاء الزوجیۃ فانتھت کانتھائھا فامساکھا بعد ذٰلك تعد منھا وان لم تستعمل،فی جامع الفصولین لو کانت العاریۃ موقتۃ فامسکھا بعد الوقت مع امکان الردضمن وان لم یستعملھا بعد الوقت ھو المختار سواء توقتت نصا او دلالۃًالخ[2] اقول: ھذاھوالمنصوص علیہ فی الاصل کما فی الھندیۃ فیترجح علی مافیھا ان من مشائخنا من قال بان ھذا انتفع بھا بعدالوقت فان لم ینتفع بھا لم یضمن وھوالمختار٣[3]الخ فان الفتوی متی اختلف وجب المصیر الی ظاہر الروایۃ بل ھٰھنا اولی کما لایخفی۔ |
اس لئے کہ یہ عاریت، دلالت کے اعتبار سے بقاءِ زوجیت تك مؤقت تھی لہذا زوجیت کے ختم ہونے کے ساتھ ہی یہ بھی ختم ہوگئی چنانچہ اب اس کے بعد عورت کا اس کو روکے رکھنا عورت کی طرف سے تعدی ہے اگر چہ اسے استعمال نہ کرے جامع الفصولین میں ہے کہ اگر عاریت موقت ہو اور وقت گزرجانے کے بعد امکان رد کے باوجود اُسے روکے رکھے تو ضامن ہوگا اگر چہ وقت مختار ہے برابر ہے کہ توقیت باعتبار نص کے ہویا باعتبار دلالت کے الخ___اقول:(میں کہتا ہوں)یہ وہی ہے جس پر اصل میں نص کی گئی جیسا کہ ہندیہ میں ہے پس اس کو ترجیح ہوگی اس پر جو اس میں ہے کہ بیشك ہمارے بعض مشائخ نے کہا کہ تحقیق یہ حکم تب ہے جب وقت گزرنے کے بعد اس سے نفع اٹھائے، اور نفع نہیں اٹھایا تو ضامن نہ ہوگا یہی مختار ہے الخ اس لئے کہ جب فتوٰی میں اختلاف واقع ہوجائے تو ظاہر الروایۃ کی طرف رجوع ہوتا ہے بلکہ یہاں پر اولٰی ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔(ت) |
اور وُہ زیور وغیرہ کہ والدین زوج اپنی بہو کے پہننے برتنے دیتے ہیں جس میں نصابًا یا عرفًا کسی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع