30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دلہن کا گہنا جوڑا جو بری میں دیاجاتا ہے اگر نصًا یا عرفًا اس میں بھی تملیك مقصود ہوتی ہے جیسے شکر، میوہ، عطر، پھل وغیرہ، مطلقًا ہوتی ہے تو وہ بھی قبضہ منکوحہ ملك منکوحہ ہوگا ہمارے یہاں شرفا کا عرف ظاہر یہی ہے ولہذا بعد رخصت اس کے واپس لینے کو سخت معیوب وموجب مطعونی جانتے ہیں، اور اگر لے لیں تو طعنہ زن یہی کہتے ہیں کہ دے کر پھیر لیا یاصرف دکھانے کو دیا تھا جب دُلہن آگئی چھین لیا، یعنی یہ ان کی رسمِ معہود کے خلاف ہے اس صورت میں تو اس کے لئے بھی بعینہٖ وہی احکام ہوں گے جو دُولہا کے جوڑے میں گزرے کہ بعد ہلاك دُلہن سے تاوان لینے کا اصلًا اختیار نہیں جیسے شکر میوہ کا تاوان بٹ جانے کے بعد نہیں مل سکتا اگر چہ ہنوز کھانے میں نہ آیا ہو،
|
فان الخروج عن ملك الموھوب لہ ایضا من الموانع [1]کما فی الدروسائر الاسفارالغر۔ |
اس لئے کہ بیشك موہوب لہ، کی مِلك سے ہبہ کا نکل جانا بھی رجوع کے موانع میں سے ہے جیسا کہ در اور دیگر عظیم الشان روشن کتابوں میں ہے(ت) |
یُونہیں اگر وُہ جوڑا گہنا بحالتِ قرابت محرمہ والدین شوہر یا بعد نکاح شوہر نے بنا کر بھیجا تو رجوع نا متصور، ورنہ بحالت بقائے موہوب وفقدان موانع برضائے زوجہ یا قضائے قاضی واپسی گناہ کے ساتھ ممکن، ہاں جہاں عرف تملیك نہ ہو بلکہ صرف پہنانے کے لئے بھیجا جاتا اور بنانے والوں ہی کی مِلك سمجھا جاتا ہو وہاں دُلہن کی ملك نہیں ایك عاریت ہے کہ بحالتِ بقا جس سے بر وقت رجوع جائز وحلال اور بحال ہلاك اگر قبل افتراق زوجہ کے پاس بے اُس کے فعل کے تلف ہوگیا مثلًا، چور لےگیا ، گرپڑا، دُلہن کے پہننے برتنے میں ٹوٹا بگڑا خراب ہوگیا بشرطیکہ وہیں تك اپنے استعمال میں لائی ہو جہاں تك کے پہننے پر عرفًا رضا مندی سمجھی جاتی ہوتو ان صورتوں میں دُلہن پر تاوان نہیں،
|
فان العواری لاتضمن بالھلاك من غیر تعد٢[2] کما فی التنویر وغیرہ وفی الھندیۃ عن الفصول العمادیۃ اذا انتقض عین المستعارفی حالۃ الاستعمال لایجب الضمان بسبب النقصان اذا استعملہ |
اس لئے کہ بے شك مستعار اشیاء پر بلاتعدی ہلاك کی صورت میں ضمان نہیں جیسا کہ تنویر وغیرہ میں ہے۔ ہندیہ میں فصول عمادیہ سے ہے کہ جب مستعار شئی میں استعمال کی حالت میں کوئی نقص پیدا ہوجائے تو اس نقصان کے سبب سے ضمان واجب نہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع