30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں، ولہذا اگر ایك جا ن سے مثلًا بوجہ افلاس جوڑا نہ آئے تو بھی دوسری طرف والے بھیجتے ہیں تو عوض صریح کہ موانع رجوع سے ہے متحقق نہیں، پھر دُولہاکی جانب سے بری میں ہرگز اُس جوڑے کا خیال نہیں جودُولہا کو ملتا ہے بلکہ محض ناموری یا وہی کثرتِ جہیز کی طمع پروری، بہر حال یہ ہبہ معاوضہ سے خالی ہے تو بشرائط مذکورہ دُلہن والوں کو رجوع کا اختیار، مگر گنہگار ہوں گے۔ حضور پُر نور سیّدِ عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
|
العائد فی ھبتہ کالعائد فی قیئہ ١[1]۔ رواہ الائمۃ احمد والستۃ بالفظ شتی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔ |
دے کر پھیر نے والامثل کُتّے کے ہے قے کرکے پھرکھالے (اس کو امامِ احمد اور اصحاب صحاح ستّہ نے مختلف الفاظ کے ساتھ حضرت عبدا ﷲابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت) |
درمختار میں ہے :
|
(کرہ) الرجوع (تحریما) وقیل تنزیھا نھا یۃ[2]اھ اقول: والاول الذی جزم بہ فی المتن و اشار الشارح الٰی تضعیف خلافہ فانہ ھو الصحیح الذی لامعدل عنہ لقول رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم لا یحل للرجل ان یعطی عطیۃ فیرجع [3] فیھا ،رواہ الائمۃ احمد والاربعۃ عن ابن عمر وابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھم قال فی المنتقٰی صححہ الترمذی۔ |
(ہبہ میں) رجوع مکروہ تحریمی ہے، اور کہا گیا ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے نہایہ اھ اقول: (میں کہتا ہوں) اوّل جس پر متن میں جزم کیا اور شارح نے اس کے خلاف کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ کیا وہی صحیح ہے اس اعراض کا کوئی سبب نہیں بسبب فرمان رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے کہ کسی مرد کے لئے جائز نہیں کہ کچھ عطیہ دے کر اس میں رجوع کرے۔ اسے امام احمد اور اصحابِ سُننِ اربعہ نے حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہم سے روایت کیا، منتقی میں فرمایا کہ امام ترمذی نے اس کو صحیح قرار دیا۔(ت) |
اس صورت میں شوہر نے اگر یہ جوڑا واپس کردیا تو رجوع صحیح ہوگئی اور اس کی مِلك سے خارج ہوگیا لتحقق الرجوع بالتراضی(باہمی رضامندی سے رجوع متحقق ہونے کی وجہ سے۔ت) اور اگر موجودہ صورت اولٰی ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع