30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے برضائے زوجہ بنا کر بھیجا گیا تو ان صورتوں میں بھی واپس لینے کا اصلًا اختیار نہیں اگر چہ جوڑا سلامت موجود ہو کہ قرابت محرمہ زوجیت دونوں مانع رجوع ہیں ،
|
فی الدرمختارو ردالمحتار یمنع الرجوع فیھا حروف دمع خزقہ فالزوجیۃ وقت الھبۃ فلو وھب لامرأۃ ثم نکحھارجع ولو وھب لامرأتہ لاکعکسہ ای لو وھبت لرجل ثم نکحھا رجعت ولو لزوجھا لا ،والقاف القرابۃ فلو وھب لذی رحم محرم منہ نسبا لا یرجع والھاء ھلاك العین الموھوبۃ وکذااذا استھلك کما ھو ظاہر صرح بہ اصحاب الفتاوٰی رملی[1] اھ ملتقطین۔ |
درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ ہبہ میں رجوع سے مانع یہ حروف ہیں:دمع خزقہ، پس (ان سات حروف میں سےزا سے مراد ہے زوجیت ہے جو بوقتِ ہبہ موجود ہو لہذا اگر کسی عورت کو بطور ہبہ کچھ دیا پھر اس عورت سے نکاح کرلیا تو ہبہ سے رجوع کرسکتا ہے اور اگر اپنی بیوی کو بطور ہبہ کچھ دیا تو رجوع کرسکتا ہے اور اگر اپنی بیوی کو بطور ہبہ کچھ دیا تو رجوع نہیں کرسکتا، ایسا ہی اس کے برعکس میں بھی ہے یعنی اگر عورت نے کسی مرد کو بطور ہبہ کچھ دیا پھر اس سے نکاح کیا تو رجوع کرسکتی ہے، اور اگر اپنے شوہر کو بطور ہبہ کچھ دیا تو رجوع نہیں کرسکتی۔اور قاف سے مراد قرابت ہے، لہذا اگر کسی ایسے ذی رحم رشتہ دار کو بطور ہبہ کچھ دیا جو اس کے لئے محرم نسبی ہے تو رجوع نہیں کرسکتا۔اور ہاء سے مراد موہوب شیئی کا ہلاك ہونا ہے اور اسی طرح ہلاك کرنا ہے :جیسا کہ ظاہر ہے اصحابِ فتاوٰی نے اس کے تصریح کی، رملی اھ ملتقطین۔ (ت) |
فتح القدیر وغیرہ میں ہے:
|
لوبعث ابوھا من مالہ فلہ الرجوع لوقائما والا فلا ولو من مالھا باذنھا فلارجوع لانہ ھبۃ منھا والمرأۃ لاترجع فی ھبۃ زوجھا[2]۔ |
اگر زوجہ کے باپ نے اپنے مال سے کُچھ بھیجا تو اگر وُہ موہوب شئی شوہر کے پاس موجود ہے تو رجوع کرسکتا ہے ورنہ نہیں، اور زوجہ کے مال سے اس کی اجازت سے بھیجا تو رجوع نہیں کرسکتاکیونکہ یہ زوجہ کی طرف سے ہبہ ہے اور زوجہ کو زوج کے ہبہ میں رجوع کا حق نہیں۔ (ت) |
ہاں اگرجوڑا مِلك شوہر میں موجود اور باقی موانع رجوع بھی مفقود ہوں مثلًا والدینِ زن نے بنایا تو اُن سے قرابت محرمہ نسبیہ نہ ہو، یا مالِ زوجہ سے بنا تو پیش ازنکاح بھیجا گیا ہوتو شوہر کی رضا یا قاضی کی قضا سے رجوع کا اختیار ہوگا کہ طرفین سے جوڑیں کا جانا بحکمِ عرف دونوں جانب کی مستقل رسم ہے،نہ ایك دوسرے کے عوض
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع