30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں اور اگر ہلاك کردے ایك شخص ان دونوں میں سے جو دیا تھا اس کو دوسرے نے، تو اس صورت میں ہلاك کردینے والے سے وُہ دوسرا شخص جس کامال ہلاك کیا، لے سکتا ہے یا نہیں۔ والدین زوج نے اپنے پسر کی زوجہ کو کچھ زیور وغیرہ واسطے تالیفِ قلوب کے بایں غرض کہ ہمارے گھر میں رہے گا اور ہر وقت ہمارے اختیار میں جس وقت چاہیں گے اس کو دوسرے کام میں لائیں گے اور جب چاہیں گے بنادیں گے جیسا کہ تاجروں میں ہے بطور عاریت کے ایسا مال دیا کرتے ہیں واسطے زیبائش اپنے گھر کے، نہ بطور تملیك کے، اس صورت میں مالك اُس مال کے والدین ہیں یا نہیں۔ بینواتوجروا۔
الجواب:
جہیز ہمارے بلاد کے عرف عام شائع سے خاص مِلك زوجہ ہوتا ہے جس میں شوہر کا کچھ حق نہیں، طلاق ہُوئی تو کُل لے گئی، اور مرگئی تو اسی کے ورثاء پر تقسیم ہوگا۔ ردالمحتار میں ہے :
|
کل احد یعلم ان الجھاز للمرأۃ وانہ اذاطلقھا تاخذہ کلہ واذا ماتت یورث عنھا[1]۔ |
ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے، جب شوہر اس کو طلاق دے دے تو وہ تمام جہیز لے لے گی اور جب عورت مرجائے تو جہیز اس کے وارثوں کو دیا جائے گا۔(ت) |
ہاں مرد بحالت ہمخانگی اُن کے والدین بھی بعض اشیائے جہیز مثل ظروف وفروش وغیرہا اپنے استعمال میں لاتے ہیں اورعرفًا اس سے ممانعت نہیں ہوتی اس کی بنا ملك شوہر یا والدینِ شوہر پر نہیں بلکہ باہمی انبساط کہ زن وشو کے املاك میں تفاوت نہیں سمجھا جاتاجیسے عورتیں بے تکلف اموال شوہر استعمال میں رکھتی ہیں اس سے وہ اُس کی مِلك نہ ہوگئے۔ عقودالدریہ کتاب الفرائض میں بحرالرائق سے ہے :
|
لایکون استمتا عھا بمشریہ ورضاہ بذٰلك دلیلا علی انہ ملکھا ذٰلك کما تفھمہ النساء والعوام وقد افتیت بذٰلك مرارا٢ [2]۔ |
شوہر کے خریدے ہوئے مال سے عورت کانفع حاصل کرنا اور شوہر کا اس پر رضا مند ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ عورت اس مال کی مالك ہوگئی جیسا کہ عورتیں اور عام لوگ سمجھتے ہیں اور تحقیق میں اس پر متعدد بار فتوٰی دے چکا ہُوں۔ (ت) |
یہاں سے ظاہر کہ جانب شوہر کی بری اگر چہ بامید کثرت جہیز گراں بہا بنے معاوضہ نہیں کہ اگر یہ اشیاء اپنے ملك پر رکھتے اور وقت پر برائے نام بھیج دیتے ہوں کہ ہمارے گھر آجائے گی جب تو ظاہر کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع