30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ط
مسئلہ ٧٥: ٢٥صفر ١٣٠٦ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی لڑکی کا نکاح کیا اور جہیز میں اُ س کو کچھ زیور یا اسباب یا جائداد دی تواُس مال کا مالك اس لڑکی کے حینِ حیات میں اس کا شوہر ہوسکتا ہے یا وہ لڑکی ہی مالك ہے۔ بینوا توجروا
الجواب:
وہ مال تمام وکمال خاص مِلك عورت ہے دوسرے کا اس میں کُچھ حق نہیں :
|
فی ردالمحتار احد یعلم ان الجہاز ملك المرأۃ وانہ اذا طلقھا تاخذ کلہ واذا ماتت یورث عنھا ولایختص بشئی منہ[1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ردالمحتار میں ہے ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اورجب شوہر اس کو طلاق دے دے وہ تمام جہیز لے لے گی، اور اگر عورت مرجائے تو جہیز اس کے وارثوں کو دیا جائے گا شوہر اس میں سے اپنے لئے کچھ بھی مختص نہیں کرسکتا۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع