30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لو وھب الذی رحم محرم نسبا ولو ذمیا او مستامنا لایرجع[1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔ |
اگر کسی نے اپنے ذی محرم نسبی کو ہبہ دیا تو وہ خواہ کافر ذمی ہو یا امن لے کر آیا ہو تو واپس نہ لے سکے گا واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ٧٤: از چاندہ پار ڈاك خانہ شہرت گنج ضلع بستی مسئولہ محمد یار علی صاحب نائب مدرس ٹریننگ اسکول ١٧ذی الحجہ ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح کے وقت لڑکی بالغہ کے والدین نے بخیال دنیا اس قدر وسیع مہر بندھوایا کہ لڑکا بالغ اپنے والدین کی جائداد موجودہ سے کسی صورت ادا نہیں کرسکتا، لڑکے نے اس خیال پر کہ اگر منظور نہ کروں گا نکاح نہ ہوگا مجبورًا محض اﷲ کے بھروسے پر اپنے نزدیك نکاح جائز سمجھ کر منظور کرلیا جب مکان پر ہمراہ رہنے کا دونوں کا اتفاق ہُوا تو اسی ہفتہ کے اندر لڑکی بالغہ نے بخوشی ورضامندی بغیر کسی مجبوری اور دباؤ شوہر کے سامنے اﷲکو شہید وبصیرجان کر جمیع انبیاء وملائکہ کا واسطہ دلاکر معاف کردیا، جب سے آج تك ایك سال کا زمانہ گزرا میاں بی بی دونوں ساتھ ہیں اب چند روز سے لوگوں کی زبانی معلوم ہوا کہ یہ نکاح ناجائز و حرام ہوا اور یہ صحبت حرامکاری ہے لڑکا بخوف عقبٰی اپنی براءت کے لئے ہرصورت سے راضی ہے گو کہ بی بی اس کو بہت محبوب ہے مگر شرعی فتوٰی پر کاربند ہونے کو دل وجان سے تیار ہے، مہر جو بندھا ہے اس کی تعداد ایك ہزار دو اشرفی لڑکے کے والدین کی جائداد تقریبًا پانچ سو روپے٥۰٠سکّہ رائج الوقت، بینواتوجروا۔
الجواب:
اگرلڑکے کے پاس ایك پیسے کا سہارا نہ ہوتا اور دس کروڑ اشرفی کا مہر باندھا جاتا جب بھی نکاح صحیح تھا اور معاذاﷲ اسے حرام کاری سے کچھ تعلق نہ تھا، یہ جو حدیث میں ارشاد ہُوا ہے کہ جن کا نکاح ہوا ان کی نیت میں ادائے مہر نہیں وہ روز قیامت زانی وزانیہ اٹھائے جائیں گے [2]یہ ان کے واسطے ہے جو محض برائے نام جُھوٹے طور پر ایك لغو رسم سمجھ کر مہر باندھیں شرعًا نکاح اُن کا بھی ہوجائے گا اور وُہ بحکمِ شریعت زانی و زانیہ نہیں زن و شو ہیں اگر چہ قیامت میں اُن پر اس بدنیت کا وبال مثل زنا ہو کہ اُنہوں نے حکمِ الٰہی کو ہلکا سمجھا یہاں کہ لڑکے نے اﷲ عزوجل پر بھر وسا کرکے قبول کیا تو اس صورت سے کچھ علاقہ نہ ہُوا پھر جبکہ لڑکی بالغہ نے بے کسی دباؤ کے بخوشی معاف کردیا معاف ہوگیا، واﷲتعالٰی اعلم۔
___________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع