30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٧٣: از سرائے صالحہ ضلع ہزارہ تحصیل ہری پور مرسلہ حاجی عبدا لعزیز خاں صاحب ١٢ ذی الحجہ ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے نواسہ خالد کی منگنی میں جرگہ عام میں ایك زیور از قسم طلائی اس کے والد عمرو کودے کر بطور ہبہ کہا کہ یہ تمہارے لڑکے کی طرف سے بطور نشانی لڑکی کو پہناتا ہُوں، اس وقت عمرو کا لڑکا خالد نابالغ تھا اور عمرو نے وہ زیور زید سے قبول کرلیا لڑکی کے ہاتھ میں خالد کی طرف سے پہنایا گیا، اب وُہ دونوں یعنی لڑکا اور لڑکی بالغ ہیں کسی خاص وجہ سے لڑکی کی طرف سے وُہ زیور وغیرہ اور پار چات واپس ہوکر طلاق ہونے پر فریقین تیار ہیں لیکن وُہ زیور جو زید نے اپنی طرف سے نواسہ کو دیا ہے اور لڑکی کو اس کی طرف سے پہنا یا گیا تھا زید کہتا ہے کہ وہ مجھ کو واپس ہوئے اور لڑکا کہتا ہے کہ میں اب بالغ ہوں مجھ کو ملے اور عمرو لڑکے کا والد کہتا ہے مجھ کو ملنا چاہئے، اس لئے صاحبانِ شرع شریف سے مفصل طور پر دریافت کیا جاتا ہے کہ آیا اس صورت میں اس زیور کے لینے کا شرعآ کون مستحق ہے،کیا نانا یا باپ یا خود لڑکا جس کی منگنی ہُوئی تھی؟ جوابِ باصواب عنایت فرماکر اجردارین حاصل فرماویں، بینواتوجروا، اگر صورتِ مسئولہ میں ہبہ ہے تو نانا نواسے وُہ زیور شرعًا واپس لینے کا حقدار ہے یا نہ؟
الجواب:
ایسے زیور پارچہ کو عرف میں چڑھا وا کہتے ہیں اسے دُولھا کی طرف سے دُلہن کو دینے میں اگر چہ عرف وعادت ناس کا اختلاف ہے، بعض ہبۃً دیتے ہیں بعض عاریۃ، مگر وُہ جو دُولہا کے اقارب دُولہا کے یہاں بھیجتے ہیں اس میں اصلًا اختلاف نہیں وُہ یقینا بطور ہبہ وامداد ہی ہوتا ہے، کسی حالت میں اُنہیں اس کی واپسی کا دعوٰی نہیں ہوتا، اولاد کی شادیوں میں جو ایسی اعانت کی جاتی ہے اس میں اعانت کرنے والا اگر تصریح کردے کہ میں نے ہبہ کی جب تو وہ اس کی ہے، اور تصریح نہ کرے تو وُہ چیز اگر اولاد کے مناسب ہے تو ان کی ہے ورنہ اگر یہ امداد کرنے والا باپ کے اقارب یا شناساؤں میں سے ہے تو وہ ہبہ باپ کے لئے ہے اور ماں کے اقارب سے یا شناساؤں میں ہے تو ماں کے لئے، مگر یہ کہ امداد کرنے والے نے اس وقت کچھ نہ کہا، اور اب وہ موجود ہے اور بیان کرے کہ میں نے فلاں کو ہبہ کیا تھا مثلًا باپ یا ماں یا اولاد کو تو اُ س کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا۔ عالمگیریہ میں ہے :
|
اذا اتخذ الرجل عذیرۃ للختان فاھدی الناس ھدایا ووضعوا بین یدی الولد فسواء قال المھدی ھذا للولد او لم یقل فان کانت الھدیۃ تصلح للولد |
مثلًا بچے کے کپڑے،یا وہ شے جو بچّے استعمال کرتے ہیں جیسے ہاکی اور گیند تو یہ بچے کیلئے ہی ہونگے کیونکہ ایسی چیزیں عادۃً بچّے کی ملکیت کیجاتی ہیں،اور اگر وُہ ہدیے بچّے کے مناسب ہوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع