30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رکھنا حقِ شوہر وحکمِ شرعی ہے۔قال تعالٰی :
|
اَسْکِنُوۡہُنَّ مِنْ حَیۡثُ سَکَنۡتُمۡ مِّنۡ وُّجْدِکُمْ [1] |
ان کو سکونت دوجہاں تم ساکن ہو اپنی گنجائش کے مطابق۔ (ت) |
شوہر جب چاہے اس حق کا مطالبہ کرسکتا ہے کمن ترکت قسمھا لھا ان تعود متی تشاء(جیسا کہ بیوی اپنی باری چھوڑدے تو اس کو واپس لینے کا حق ہے جب چاہے۔ت) اور دوسرے معاہدہ سے مہر دو٢ برس کے لئے مؤجل ہوگا اس پر لازم ہے کہ دو برس کے اندر کردے خواہ جائداد خرید کر یا نقد۔ اگرصرف جائداد خرید دینے کا معاہدہ ہوتا تو وہ بھی محض ایك وعدہ ہوتا زوجہ کو دو برس کے بعد مطالبہ مہر ہی کا استحقاق ہوتا نہ بالخصوص جائیداد کا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
(٢) اگر شوہر تسلیم کرے کہ عقد اسی قرار داد کی بناء پر ہُوا تھا اور مؤ جل سے وہی اجل مراد تھی تو دو٢ سال میں ادا کرنا لازم ہوگاورنہ اطلاق لفظ اپنا عمل کرے گا اور یہ مہر مؤخر رہے گا قبل موت وطلاق مطالبہ کا اختیار نہ ہوگا کہ تاجیل بوجہ جہالت اجل صحیح نہ ہوئی۔ فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے :
|
رجل تزوجل امرأۃ بالف علی ان کل الالف مؤجل ان کان الاجل معلوما صح التاجیل وان لم یکن لایصح واذا لم یصح التاجیل یؤمر الزوج بتعجیل قدر ما یتعارفہ اھل البلدۃ فیوخذ منہ الباقی بعد الطلاق او بعد الموت ولایجبرہ القاضی علی تسلیم الباقی ولایحبسہ[2]۔ |
ایك شخص نے کسی عورت سے ایك ہزار پر نکاح کیا اور کہا کہ پُورا ہزار مؤجل ہے، تو اگر اس کی مدت معلوم ہوتو مہلت دینا صحیح ہے اور اگر مدت معلوم نہ ہوتو مہلت دینا صحیح نہیں اور جب مہلت دینا صحیح نہ ہو تو خاوند کو کہا جائیگا کہ علاقہ کے عرف کے مطابق کچھ معجل طور پہلے دے دے اور باقی اس سے طلاق یا موت کے بعد وصول کیاجائیگا اور قاضی اس پر باقی کی ادائیگی میں جبر نہ کرےگا اور نہ قید کرے گا۔(ت) |
عالمگیریہ میں ہے :
|
تأجیل المھرلا الی معلومۃ یصح ھوالصحیح لان الغایۃ معلومۃ فی نفسھا وھوالطلاق او الموت کذا فی المحیط[3]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مہر کی مہلت، مدتِ غیر معین تك ہو توصحیح ہے، یہی صحیح ہے، کیونکہ انتہائی مدت خود بخود معلوم ہے، اور وہ طلاق یاموت ہے، محیط میں یونہی ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع