30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
در مختار میں ہے:
|
والاصل ان من خرج کلامہ تعنتا فالقول لصاحبہ بالاتفاق[1]۔ |
ضابطہ یہ ہے کہ جو بھی اپنے مفاد کے خلاف بات کرے تو دُوسرے فریق کی بات معتبر ہوگی بالاتفاق۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:تعنتا بان ینکر ما ینفعہ[2] (تعنت یہ ہے کہ وُہ اپنے مفاد کے خلاف بات کرے۔ت)بہر حال اُن میں جوکوئی خلوت صحیحہ ہونا بیان کرتا ہو دوسرے کو قبل عدّت نکاح پر اقدام نہ چاہئے،قال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کیف وقد قیل[3] (حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے فرمایا: کیاکیا جائے جب بات کہہ دی گئی ہے۔ت) واﷲتعالٰی اعلم۔
(٣) دربارہ دخول تو ظاہر ہے کہ گواہوں کو کچھ دخل نہیں کہ وہ اس پر مطلع نہیں اور ظاہرا خلوت صحیحہ بھی شہادت سے جُدا۔اُن کا علم اگر محیط ہوسکتا ہے تو صرف اتنی بات کوکہ سامنے یہ دونوں تنہا مکان میں گئے اُس میں کوئی اور نہ تھا اور کواڑبند کرلئے اس پر اگر ثابت ہوئی تو صرف خلوت صحیحہ کے لئے تو یہ بھی لازم ہے کہ کوئی مانع نہ حسی ہونہ شرعی نہ طبع۔ اس پر شہادت نفی پر شہادت ہوگی اور وہ معتبر نہیں خصوصا بعض موانع وُہ ہیں جو شاہدوں کی اطلاع سے ورا ہیں' معہذااگر شوہر خلوتِ صحیحہ ہونا بیان کرتا ہے تو وُہ مقر ہے اقرار کے ساتھ شہادت کسی۔ اوراگر عورت بیان کرتی ہے تو وُہ منکرہ ہے اور گواہ منکر سے نہیں لئے جاتے بلکہ مدعی سے، ہاں یہ صورت متصور ہے کہ عورت اپنے اوپر سے دفع حلف کے لئے اقرارِ شوہر کے گواہ دے جو شہادت دیں کہ ہمارے سامنے شوہر نے خلوت صحیحہ ہونے کا اقرار کیا،
|
ھذاکلہ ماقلتہ تفقھا والفقیر الاٰن متنزہ علی جبل بعید عن وطنی وکتبی فان اصبت فمن ربی وعندہ العلم بالحق وھو حسبی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ |
یہ جو کچھ میں نے کہا ہے محض فہم کی بنا پر کہا ہے اس وقت میں دور ایك پہاڑ پر تفریح میں ہوں، اپنی کتب اور وطن سے دور ہوں، لہذا اگر یہ درست ہو تو میرے علم رب کی طرف سے ہے اور اس کے پاس ہی حق کا علم ہے، وہی مجھے کافی ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
مسائل پر بفضلہ تعالٰی یہاں کبھی کوئی اُجرت نہیں لی جاتی اور اس کو سخت عیب سمجھا جاتا ہے مَاۤ اَسْـَٔلُکُمْ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع