30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھتیجے اس کے وارث ہونا، یا نفقہ کے لئے کچھ پاس نہ رہنا مانع صحت مہر نہیں، جو مہر میں دے چکا، اور جو کوئی ایسا مہر باندھے گا اس کا یہی حکم ہوگا اگر چہ ایسا کرنا عقل سے بعید ہے اور وہ رواج کہ بہن کو ترکہ نہیں دیتے باطل و مردود ہے، اس سے اس کا حق سقط نہیں ہوتا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ٦٨تا ٧٠: از رامہ تحصیل گوجرخاں ضلع راولپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ محمد جی صاحب ٤شوال ١٣٣٩ھ
رئیس المحققین عمدۃ الامین محافظ الدین دام لطفہ، تسلیم کے بعد عرض خدمت ہے کہ :
(١) اگر طالق اور مطلقہ دونوں کہتے ہیں کہ نہ ہم نے وطی کی ہے نہ ایك جگہ تنہائی میں بیٹھے ہیں، اب حضور انور بتائیں کہ ان کے کہنے پر اعتماد کرکے بغیر عدّت کئے نکاح کیا جائے تو کچھ نکاح خواں پر تو گناہ نہیں ہے یا ہے؟
(٢) اگر محض عورت طالق کے دخول اور خلوتِ صحیحہ سے منکرہ ہے، اور طالق کہتا ہے میں نے دخول کیا ہے، یا برعکس ہوتو کس کے قول پر اعتماد کرکے بغیر عدّت کئے دوسرے مرد کے ساتھ نکاح کیا جائے یا نہیں؟
(٣) ثبوت خلوت صحیحہ اور دخول کا گواہان سے ہوگا یاطالق مطلقہ سے، سند فقہاء مع عبارت کتب واسمِ کتاب ارشاد ہو قیمت رقیمہ دی جائے گی، بینوا توجروا۔
الجواب:
(١) جبکہ ظاہر حال اُن کے قول کا مکذب نہ ہو تو اس کا اعتبار کیا جائے گا نکاح خواں پر کوئی الزام نہ ہوگا، واﷲتعالٰی اعلم۔
(٢) اگر عورت خلوتِ صحیحہ ہونا بیان کرتی ہے اور شوہر منکر ہو تو عورت کا قول معتبر ہے، تنویر میں ہے :
|
ولوافترقا فقالت بعد الدخول وقال الزوج قبل الدخول فالقول لھا[1]۔ |
جب دونوں میں مفارقت ہوئی تو بیوی نے کہا کہ دخول کے بعد ہوئی ہے اور خاوند نے کہا دخول سے قبل مفارقت ہُوئی ہے، تو بیوی کا قول معتبر ہوگا۔(ت) |
ردالمحتا میں ہے :
|
قولہ فقالت بعد الدخول المراد ھنا الاختلاف فی الخلوۃ[2]۔ |
اس کے قول کہ"بیوی نے دخول کے بعد کہا"سے مراد خلوت میں اختلاف ہے۔(ت) |
اور اگر عکس ہو تو قولِ شوہر بدرجہئ اولٰی معتبر ہے کہ وہ مقر ہے اور عورت انکار سے متعنت۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع