30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے۔بینواتوجروا
الجواب:
اگر شوہر زندہ اورنکاح قائم ہے یا طلاق بعد خلوت ہوئی یا شوہر مرگیا اور عورت کی نزاع اُس کے وارثوں سے ہے ان سب صورتوں میں دیکھا جائے کہ١عورت کا مہر مثل دس ہزار خواہ کم ہے یا٢ایك لاکھ خواہ زائد یا٣دس ہزار سے زیادہ ایك لاکھ سے کم ہے،پہلی١صورت میں عورت کے گواہ معتبر ہیں لاکھ روپے کی ڈگری ہوگی۔دوسری٢صورت میں فریق ثانی کے گواہ معتبر ہیں دس١٠ ہزار دلائے جائیں گے۔تیسری٣صورت میں جتنا مہر مثل ہے اُتنے کی ڈگری دیں گے۔یہ سب اُس حال میں ہے کہ دونوں کے گواہ قابل قبول شرع ہوں اور وجہ شرع پر شہادت ادا کی ہو،اور اگر اُن میں ایك ہی فریق کے گواہ ایسے ہیں تو مطلقا انہوں کا اعتبار ہوگا خواہ لاکھ کے ہوں یا دس١٠ ہزار٤ کے،دوسرے فریق کی شہادت کا لعدم ہوگی،اور اگر دونوں فریق کی شہادت شرعًا کا لعدم ہوتو پہلی صورت میں فریقِ شوہر سے حلف لیں گے کہ لاکھ روپے مہر نہ بندھا تھااگر قاضی کے حضور حلف سے انکار کردے گا لاکھ کی ڈگری ہوگی اورحلف سے انکار کردے گی دس١٠ہزار پائے گی اور حلف کرلے گی تو لاکھ،اور تیسری صورت میں دونوں حلف کرلیں گے مہر مثل دلایا جائیگا اگرزن وشو میں طلاق قبل خلوت کے بعد اختلاف ہوا تو مطلقًا قولِ شوہر حلف سے معتبر ہے۔جس طرح بعد موت زوجین اُن کے ورثہ میں اختلاف ہوتو مطلقًا وارثان،شوہر کا قول معبتر ہے۔درمختار میں ہے:
|
(ان اختلفا) فی المھر (فی قدرہ حال قیام النکاح فالقول لممن شھد لہ مھر المثل) بیمینہ (وای اقام بینۃ قبلت) سواء(شھد لہ او لھا اولاوان اقاما فبینتھا) مقدمۃان شھد لہ وبینتہ ان شھد لھا وان کان بینھما تحالفا فان حلفا اوبرھنا قضی بہ وان برھن احدھما قبل |
نکاح کے دوران اگر خاوند بیوی کا مہر کی مقدار میں اختلاف ہوا (تومہر مثل کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا) لہذا مہر مثل جس کی تائید کرے گا اس کی بات قسم لے کر تسلیم کی جائے گی،اور جس نے گواہ پیش کردئے تو اس کی گواہی مقبول ہوگی،مہرمثل بیوی یا خاوند کی تائید کرے یا کسی کی نہ کرے،ہر طرح گواہی مقبول ہوگی،اگر مہر مثل خاوند کی تائید کرے اور خاوند کی شہادت کو اولیت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع