30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
مہراگر واقعی معجل بندھا ہے تو ہندہ ہر وقت اس کا مطالبہ کرسکتی ہے،زید نہ دے تو بذریعہ ناش وصول کرے،اور جب تك نہ ملے ہندہ کو اختیار ہے کہ اپنے نفس کو زید روکے اور اس کے گھر نہ جائے،اور اس روکنے کی وجہ سے ہندہ کا نان نفقہ زید سے ساقط نہ ہوگا۔
|
لانھا منعت بحق فلم تکن ناشزۃ والمسئلۃ فی الدر المختار من الاسفار۔ |
کیونکہ بیوی نے اپنے حق کے لئے خاوند کو منع کیا ہے لہذا نافرمان نہ ہوگی،اور مسئلہ درمختار وغیرہ میں ہے۔(ت) |
ہاں یہ ناممکن ہے کہ ہندہ بغیر طلاق یا موتِ شوہر وانقضائے عدّت دوسرے سے نکاح کرسکے،قال تعالٰی: وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ [1](شادی شدہ عوتیں تم پر حرام ہیں۔ت)واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ٦٠: از شہر محلہ برہمپور مسئولہ حاجی شاہ محمد عرف کمال اﷲ شاہ صاحب ٢٦محرم الحرام ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ معصومن زوجہ لعل محمد کے مہر کا حال اس طرح معلوم ہوا ہے کہ وُہ خود کہتی ہے کہ میرا ایك سو دس ١١٠ روپیہ کا مہر ہے اور وکیل وگواہ نکاح مسمّاۃ مذکورہ کے فوت ہوگئے کوئی زندہ نہیں ہے،اس کے چچا زاد بہنیں چار ہیں جن میں سے تین کے مہر کی تعداد معلوم نہیں،سب یہی کہتے ہیں کہ شرع پیغمبری تھا اور ایك چچازاد بہن کا مہرمبلغ پانچسوروپےہ ہونا معلوم ہوا ہے جو کہ مسمّی ننھے کی زوجہ ہے،ایسی صورت میں مسمّاۃ معصومن کا مہر کیا قائم کیا جائے گا؟
الجواب:
جبکہ عوت ایك سو دس روپے اپنا مہر بتاتی ہے اوراس سے زائد بھی اس کے خاندان میں باندھا گیا ہے اور اس کے خلاف پر کوئی شہادت نہیں تو اس پر اس سے حلف لیا جائے،اگر حلف سے کہہ دے کہ میرا مہر ایك سودس روپے بندھا تھا تو ایك سودس دلائے جائیں گے۔عالمگیری میں ہے:
|
امرأۃ ادعت علٰی زوجھا بعد موتہ ان لھا علیہ الف درھم من مھرھا فالقول قولھا الی تمام مھر |
اگر خاوند کے فوت ہوجانے کے بعد بیوی نے دعوٰی کیا کہ میرے مہر کے ہزار درہم اس کے ذمہ ہیں تو اس کی بات مہر مثل کی حد تك قابل قبول ہوگی،محیط السرخسی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع