30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٥٤: از مدن پور مرسلہ عزیز الدین صاحب ٢رجب ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ دیہات میں ہمارے یہاں رواج ہے کہ مہر کی تفصیل نہیں ہوتی،اوربعض لوگ کرتے بھی ہیں تو اس طرح کہ زیور وغیرہ مہرمعجل دیتے ہیں اور بعض قاضی مہر معجل نام رکھ دیتے ہیں ورنہ علی العموم نہ معجل نام رکھتے ہیں نہ مؤجل،توایسی حالت میں ہندہ اپنے شوہر زید سے مطالبہ دَین مہر کرسکتی ہے یانہیں کہ پہلے میرا مہر ادا کردوتو میں اپنے والدین کے یہاں سے رخصت ہوں تمہارے گھر چلوں گی،اورحال یہ ہے کہ فی الحال زید کومہر ادا کرنے کی مقدرت بھی نہیں۔بینوا توجروا۔
الجواب:
جبکہ نہ مہر معجل ٹھہرا رخصت سے پہلے ادا کیاجائے نہ مؤجل کہ اتنی مدّت معیّن گزرنے پر دیا جائے یا جتنا معجل ٹھہرا تھا وُہ زیور وغیرہ دے کر ادا ہوچکا ہو،باقی نہ معجل ٹھہرا نہ مؤجل خواہ قاضی نے غیر معجل کہہ دی یا کچھ نہ کہا ہو تو اب ہندہ کو جب تك طلاق یا دونوں میں سے ایك کی موت نہ واقع ہو ہرگز مطالبہ مہر کا کچھ حق تھانہ وہ اس لیے رخصت سے انکارکر سکتی ہے اگرچہ زید کو فی الحال ادائے مہر کی لاکھ مقدرت ہو۔ردالمحتار کتاب القضاء میں قبیل باب التحکیم ہے:
|
لومات زوج المرأۃ او طلقھا بعد عشرین سنۃ مثلا من وقت النکاح فلھا طلب مؤخر المھر لان حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق لامن وقت النکاح [1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اگرخاوندفوت ہوجائے یا نکاح سے بیس٢٠ سال بعد طلاق دے تو بیوی کو مؤخر کردہ مہر طلب کرنے کا حق ہے،کیونکہ اس مہر کے مطالبہ کا حق موت یا طلاق کے بعد ہی ثابت ہوتا ہے نہ کہ نکاح کے وقت سے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ٥٥: از رچھا مرسلہ رفیق احمد صاحب ٨ رجب شریف یوم دوشنبہ ١٣٣٨ھ
ایك عورت سے اس کے خاوند نے کہا تُو اپنا مہر معاف کردے،اس نے کہا کہ میں معاف نہیں کرتی،اس پر اس کے خاوند نے سخت پریشان کیا اور تنگ رکھا اور ساس سسر نے بھی بُرا بھلا کہا لہذا وہ عورت اپنے ماں باپ کے یہاں آگئی ہے،اس کا خاوند لینے آیا تواس نے سوال کیا کہ میں اپنا مہر جب تك کُل نہ لُوں گی جب تك جاؤں گی،اس کے خاوند نے کہا کہ ہم تم کو زبردستی پکڑلے جائیں گے،اور یہ بھی کہا کہ تُومہر کا کیا کرے گی،تو اس نے کہا کہ میں مسجد بنواؤں گی۔اب عرض یہ ہے کہ پنچ لوگ بلامہر ادا کرائے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع