30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اگر اُن مراد مہرِ حضرت بتول زہرا رضی اﷲتعالٰی عنہا ہوتی ہے تو وہ چار سو٤٠٠ مثقال چاندی یعنی یہاں کے ایك سو ساٹھ١٦٠ روپے بھر،اور اگر مہرِ ازواجِ مطہرات مراد ہے تو پانسودرم یعنی یہاں کے ایك سوچالیس ١٤٠ روپے،اوراگر کوئی خاص رقم ان کے ذہن میں نہیں تو مہر مثل لازم آئے گا جو ایك سو ساٹھ روپے بھر چاندی یاایك سوچالیس روپے سے زائد نہ ہو کہ یہ قلت ضرور مراد ہوتی ہے،یہاں کے کثیر التعداد مَہروں سے بھاگنے کے لئے یہ لفظ عوام نے وضع کیا ہے تو اُن سے زیادہ نہ دیاجائے گا،وارث اگر کمی کادعوٰی کریں تو بحلف کہیں کہ ایسی عمر و شکل کی بازاری عورت کا مہر مثل اتنا ہوتا ہے یا حکم تجویز کرے جو اس مقدار سے زائد نہ ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٥٣: از ضلع رائے پور سی پی مرسلہ سردار خاں صاحب کلرك مہاندی ڈویژن دفتر ١١ صفر ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مہر معجل کی شرطِ ادا کیا ہے،اور زید کا نکاح ہندہ سے بمہر معجل قرار پایا لیکن عرصہ دراز تقریبًا ٢٥ سال کاگزر ا کہ وہ مہر معجل ادا نہ ہو' ایسی حالت میں کیا معجل مؤجل ہوسکتا ہے یا اس مہر کا استحقاق جاتا رہا،در صورت حبطِ استحقاق آیا زید اور ہندہ کی خلوت صحیح ہُوئی۔بینواتوجروا
الجواب:
ادا نہ ہونے سے مہر کا استحقاق کبھی نہیں جاسکتا،اور جو معجل ٹھہرا ہے وُہ ہمیشہ معجل ہی رہے گا جب تك عورت اُسے اپنی رضا سے مؤجل نہ کردے،پچیس برس مطالبہ نہ کرنا اُس کے حق میں فرق نہیں لاتا،وُہ جب تك عورت اُسے اپنی رضا سے مؤجل نہ کردے،پچیس برس مطالبہ نہ کرنا اُس کے حق میں فرق نہیں لاتا،وُہ اب بھی جس وقت چاہے اپنے مہر معجل کا مطالبہ کرسکتی ہے اور جب تك نہ ملے اپنے نفس کو شوہر سے روك سکتی ہے،درمختا ر میں ہے:
|
(ولھا منعہ من الوطی)ودواعیہ شرح مجمع(والسفر بھا ولو بعد وطی وخلوۃ رضیتھا)لان کل وطأۃ معقود علیھا فتسلیم البعض لایُوجب تسلیم الباقی(لاخذ مابین تعجیلہ)من المھر کلہ او بعضہ[1]۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
بیوی کی وطی اور اس کے دواعی سے خاوند کو منع کرنے کا حق ہے۔شرح مجمع،سفر سے بھی،اگر چہ برضائے زوجہ وطی اور خلوت ہو چکی ہو کیونکہ ہر وطی مہر پر معقود ہوتی ہے(یعنی ہر وطی پر جدا جدا مہر لازم آتا ہے)تو بعض بدل دینے سے باقی کا دے دینا ثابت نہیں ہوتا،جتنا مہر معجل بیان کیا ہو اس کی وصولی کے لئے وُہ کُل مہر ہو یا بعض،عورت اپنے نفس کو شوہر سے روك سکتی ہے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع