30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٤٦تا ٤٧: از شہسرام ضلع گیامرسلہ سراج الدین احمد صاحب ٣جمادی الآخرہ ١٣٣٦ھ
(١)اصناف تعین مہر میں کہ معجل ومؤجل ومثل ہے معجل میں کلام نہیں اور مؤجل میں کابین کا لکھنا ضرور ہے یانہیں ہے،ہے تو موافق شریعت کے مضمون کیا ہے ؟
(٢)مہر مثل ازواجِ مطہرات رسول علیہ التحیتہ والصّلٰوۃ کہ امہات المومنین والمومنات ہیں کا افضل یا خاندانی مثل ام وعمہ،عروس وداماد۔
الجواب:
(١)مہر معجل وُہ ہے جو پیشگی دینا ٹھہرے،اور مؤجل وہ جس کی ایك میعاد معین قرار پائے کہ اتنے زمانے کے بعد ادا کی جائے گا،اور مؤخر وُہ کہ نہ پیشگی دینا ٹھہرا نہ اُس کا کوئی وقت معین کیا گیا،مہر مثل کوئی ان کی مقابل قسم نہیں،مؤجل کی دستاویز لکھنا بہتر ہے۔قال تعالٰی:
|
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَدَایَنۡتُمۡ بِدَیۡنٍ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوۡہُؕ[1]۔ |
اے ایمان والو! جب تم ادھار لین دین مقررہ مدت پر کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔(ت) |
تفسیر احمدی میں ہے:
|
فی الزاھدی ان الاٰیۃ عامۃ فی السلم وکل دین یصح فیہ الاجل [2]۔ |
زاہدی میں ہے کہ یہ آیہ کریمہ بیع سلم اور ہرادھار سودا جس میں مدّت مقرر کرنا صحیح ہو سب کوشامل ہے(ت) |
مدارك التنزیل میں ہے:الامر للندب[3] (آیہ کریمہ میں امر استحباب کے لئے ہے۔ت) لباب التاویل میں ہے:وھوقول جمھور العلماء[4] (یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ت)او ر مضمون میں وہی طریقہ معہودہ کافی ہے جو تمسکات میں رائج ہے کہ میں فلاں بن فلاں بن فلاں ہوں میں نے فلاں تاریخ فلانہ بنت فلاں بن فلاں سے اتنے مہر پر نکاح کیا جس کی ادا اتنے دنوں بعد قرار پائی ہے(اقرار کرتا ہُوں کہ مہر مذکور میعادِمذکور ادا کروں گا۔واﷲتعالٰی اعلم۔
(٢)ازواجِ مطہرات کامہر کس کے لئے مہر مثل ہوسکتا ہے،ان کے مثل کون ہے،مہر مثل سے اپنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع