30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے:
|
لومات زوج المرأۃ او طلقھا عبد عشرین سنۃ مثلا من وقت النکاح فلھا طلب مؤخر المھر لان حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او لطلاق لامن وقت النکاح١ [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اگر خاوند فوت ہوجائے یا نکاح سے بیس سال بعد فوت ہو یا اس نے طلاق دی ہو تو بیوی کو مؤخر مہر طلب کرنے کا حق ہے کیونکہ بیوی کے لئے موت یا طلاق کے بعدہی مہر کے مطالبہ کا حق ثابت ہوتا ہے نہ کہ وقتِ نکاح سے۔واﷲتعالٰی اعلم۔ (ت) |
مسئلہ ٣٧تا٤٢:
سوال اوّل
حضور ! اوّل یہ بتادیجئے کہ بلاتعیینِ مہر نکاح ہوگا یانہیں،اگر لفظ شرعی مہر کہا جائے اور کوئی تشریح نہ کی جائے تو کس قدر مہر سمجھا جائے گا،بینواتوجروا
الجواب:
نکاح بلاتعیینِ مہر بلکہ نفی مہر کے ساتھ بھی صحیح ہوجاتا ہے اور مہر مثل دینا آتا ہے یونہی مہر شرعی کہنے سے بھی،جبکہ ان کی اصطلاح میں اس سے کوئی خاص مقدار مثلًا ا قل درجہ مہر یا مہر حضور بتول زہرارضی اﷲتعالٰی عنہا مراد نہ ہو ورنہ جو ان کی اصطلاح معروف ہے وہی لازم آئے گا۔واﷲتعالٰی اعلم۔
سوال دوم
مہرِ شرعی جو بنات صالحات کا لکھا ہے چار سو مثقال چاندی کا،آج کل کے سکّہ سے کس قدر روپے ہوئے ہیں؟
الجواب:
چار سومثقال چاندی مہر حضرت خاتونِ جنّت رضی اﷲتعالٰی عنہا تھا یہاں تك کے سکّے سے ایك سوساٹھ ١٦٠ روپے بھر چاندی۔واﷲتعالٰی اعلم۔
سوال سوم
مہر جوازواجِ مطہرات کا پانچ سودرہم کا سوائے بی بی اُمِّ حبیبہ رضی اﷲتعالٰی عنہا کے کہ دوہزار قدقیہ یا پانچ سودینار کا لکھا ہے سکّہ مروّجہ سے کس قدر ہوتے ہیں؟ وزن درم اور اوقیہ مثقال اور دینار کی صراحت فرما دیجئے۔
الجواب
پانچسودرم کے اس سکّہ رائجہ سے ایك سوچالیس روپے ہوتے ہیں۔درم شرعی تین ماشے ایك رتّی اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع