30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومتوجہان متین دربارہ مہر معجل ومؤجّل،مہر معجل کے کیا معنی ہیں اور منکوحہ کو کس وقت زرِ مہر کا مجاز وصول کرنے کا ہے،اور کوئی سبب ہے یا نہیں،اوراس کی کچھ تعداد ہے یا نہیں۔مہر مؤجّل کے کیا معنی اور کس وقت منکوحہ کو زرِ مہر وصول کرنے کا مجاز ہے اور اس کی کوئی تعداد بھی یا نہیں،اور کوئی سبب ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب :
مہر تین قسم ہے:
معجل کہ پیش از رخصت دینا قرار پالیا ہو اُس کے لئے عورت کو اختیار ہے کہ جب تك وصول نہ کرلے رخصت نہ ہو،اور اگر رخصت ہوگئی تو اسے اب بھی اختیار ہے کہ جب چاہے مطالبہ کرے اور اس کے وصول تك اپنے نفس کو شوہر سے روك لے اگر چہ رخصت کو بیس برس گزر کئے ہو۔
دوسر ا مؤجل جس کی میعاد قرار پائی ہو کہ دس برس یا بیس برس یا پانچ دن کے بعد ادا کیا جائے گا اس میں جب تك وُہ میعاد نہ گزرے عورت کو مطالبہ کا اختیار نہیں اور بعد انقضائے میعاد ہروقت مطالبہ کرسکتی ہے۔
تیسرا مؤخر کہ نہ پیشگی کی شرط ٹھری ہو نہ کوئی میعاد معین کی گئی ہو،یُونہی مطلق و مبہم طور پر بندھا ہو جیسا کہ آج کل عام مہر یوں ہی بندھتے ہیں اس میں تا وقتیکہ موت یا طلاق نہ ہو' عورت کو مطالبہ کا اختیار نہیں،مہر معجل ومؤجل کے لئے شرع مطہر نے کوئی تعداد معین نہ فرمائی،جتنا پیشگی دینا ٹھرے اس قدر معجل ہوگا باقی کی کوئی میعاد قرار پائی تو اتنا مؤجل ہوگا ورنہ مؤکر رہے گا،ہاں اگر کسی قوم یا شہر کا رواج عام ہوکہ اگر چہ تصریح نہ کریں مگر اس قدر پیشگی دینا ہوتا ہے تو بلاقرار دارِ تصریح بھی اُتنا معجل ہوجائے گا باقی بدوستور مؤجل یا مؤخر رہے گا۔درمختار میں ہے:
|
لھا منعہ من الوطی ودواعیۃ ولو بعد وطء وخلوۃ رضیتھما لاخذ مابیّن تعجیلہ من المھر کلہ اوبعضہ او اخذ قدر ما یعجل لمثلھا عرفا بہ یفتی ان لم یؤجل اور یعجل کلہ فکما شرطا[1]۔ |
بیوی کو مہر معجل کل یا بعض جتنا بیان ہُوا یا عرف میں جتنی مقدار معجل ہوتی ہے وصول کرنے کے لئے خاوند کو وطی اور اس کے دواعی سے منع کرنے کا حق ہے اگر چہ زوجہ کی رضا مندی سے پہلے وطی یا خلوت ہوچکی ہے اسی پر فتوٰی ہے(یعنی رواج کا اعتبار ہے اگر کل مہر کی مدّت یا تعجیل مقرر نہ کی گئی ہو،اگر مدّت یا تعجیل مقرر ہوچکی ہو)تو ویسا ہی کرنا چاہیے جیسا کہ دونوں نے شرط کیا(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع