30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
روپے ہُوئے،مہر معیّن کردینا چاہئے،فقط شرع پیغمبری یا اس کا فلاں درجہ کہنا بیوقوفی ہے۔واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ٣٤: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے اس شرط پر نکاح کیا کہ اگر میں تجھ کو طلاق دُوں تو سوروپے مہر کے ادا کروں اور اگر مجھ سے خود طلاق چاہے گی تو تجھ کومبلغ تین روپے میں دُوں گا اور کچھ نہ دُوں گتا،اب خود ہندہ نے درخواست طلاق کی زید اپنے شوہر سے رُوبر و و کیل اور رُبرو گواہانِ نکاح مسمّیان عظیم اﷲ اور جمّن کے' حسبِ درخواست ہندہ کے،زید نے ہندہ کو طلاق دے دی آیا ہندہ اس صورت میں سَوروپے پانے کی مستحق ہوگی یا تین روپے پانے کی۔بینواتوجروا۔
الجواب:
نہ تین روپے نہ سَوروپے بلکہ اُس کامہر مثل دیکھا جائے،وُہ اگر سَوروپے یا سَو سے زائد ہوتو سَوروپے دئے جائیں،اور اگر تین روپے یا بالفرض تین روپے سے دوتین آنے کم ہوں کہ یہاں تك کمی کی گنجائش ہے تو تین روپے دئے جائیں،اور اگر تین روپے سے زائد اور سَو روپے کم ہوں توپورا مہر مثل دیا جائے،درمختار میں ہے:
|
نکحھا علی الف ان اقام بھا وعلی الفین ان اخرجھا فان اقام بھا فلھا الالف لرضاھابہ،والافمھر المثل لایزاد علی الفین ولاینقص عن الف لاتفاقھما علی ذٰلك بخلاف مالو تزوجھا علی الف ان کانت قبیحۃ والفین ان جمیلۃ فانہ یصح لقلۃ الجہالۃ،الٰی آخرۃ[1] مختصرا، اقول: وفیما نحن فیہ الجہالۃ اشد من الصورۃ الاولی،فثمہ احد الشرطین حاصل والثانی علی الخطر وھٰھنا کان کل علی الخطر لجواز ان لایقع شیئی منھما فلایطلق |
بیوی کے شہر میں رہنے پر ایك ہزار اور وہاں سے لے جانے پر دوہزار مہر پر نکاح کیا،تو اگر مرد عورت کے شہر میں رہے تو ایك ہزار بیوی کو دے گا کیونکہ وُہ اس پر راضی ہُوئی تھی،اگر وہاں سے باہر لے جائے تو پھر مہر مثل ہوگا جو دوہزار سے زائد نہ ہو اور ایك ہزار سے کم نہ ہو کیونکہ اس پر دونوں کی رضا مندی تھی،یہ صورت اس کے خلاف ہے،جب یہ،کہہ کر نکاح کیا ہو کہ اگر بد شکل ہو تو ایك ہزار اور خوبصورت ہوتو دوہزار مہر ہے تو یہ دونوں شرطیں صحیح ہیں کیونکہ اس میں جہالت کے مواقع بہت کم ہیں،مختصرًا۔اقول:(میں کہتا ہوں کہ)ہماری بحث میں پہلی صورت سے بھی زیادہ جہالت ہے کیونکہ وہاں ایك شرط توحاصل ہے دوسری میں ہونے نہ ہونے کا احتمال ہے،اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع