30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
راجعتك بکذا ان قبلت وکذا بتجدید النکاح وان لم یکن بلفظ الزیادۃعلی خلاف فیہ وکذا لو اقرلزو جتہ بمھر وکانت قد وھبتہ لہ فانہ یصح ان قبلت فی مجلس الاقراروان لم یکن بلفظ الزیادۃ١[1] اھ مختصرا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ |
اتنوں کے ساتھ تجھ پر رجوع کیا اگر تجھے قبول ہو،اور یُوں ہی تجدیدِ نکاح سے اگر چہ اس میں زیادہ کا لفظ نہ بھی ہو،اس میں خلاف ہے،اور یونہی اگر بیوی نے خاوند کو مہر ہبہ کردیا اور بعد میں خاوند بیوی کے لئے کسی مہر کا اقرار کرلے،جب بیوی نے اقرار والی مجلس میں قبول کرلیا ہو اگر چہ زیادہ کا لفظ نہ بھی ہوتو یہ زیادت صحیح ہے اھ مختصرا۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ٢٨: ٦شوال ١٣١٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ مہر معجل سے ششم حصّہ بکر شوہر نے وقتِ نکاح ادا کردیا اب ہندہ کو بقیہ پانچ حصّوں کا مطالبہ قبل افتراق زن وشو پہنچتا ہے یا نہیں؟ اور اگر رخصت بلاخلوت صحیحہ واقع ہُوئی ہوتو دعوٰی کا اختیار رہا یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب:
صورتِ مستفسرہ میں بالاتفاق ہندہ کو قبل افتراق بموت یا طلاق بقیہ مہر معجل کا دعوٰی اور جب تك وتمام وکمال وصول نہ کرلے شوہر کے گھر جانے سے باز رہنا اور اپنے نفس کو شوہر سے روکنا پہنچتا ہے،اور اصل مذہب یہ ہے کہ اگر خلوت بلکہ قربت برضائے ذوجہ واقع ہولی تو اس کے بعد بھی زوجہ کو ہر وقت اختیار دعٰوی ومطالبہ ومنع نفس حاصل ہے جب چاہے رُك جائے اور شوہر کو ہاتھ نہ لگانے دے اور اُس کے گھر جانے سے انکار کرے جب تك مہر معجل نہ لے لے۔درمختار میں ہے:
|
لھا منعہ من الوطی ودواعیہ والسفر بھا ولو بعد وطئ وخلوۃ رضیتھا لان کل وطأۃ معقود علیھا فتسلیم البعض لایوجب تسلیم الباقی لاخذ مابیّن تعجیلہ من المھر کلہ او بعضہ او اخذقدرمایعجل لمثلھا عرفا،بہ یفتی[2]۔ |
بیوی کو مہر وصول کرنے کے لئے خاوند کو وطبی سے اور اس کے دواعی سے سفر میں ساتھ لے جانے سے منع کا حق ہے اگر چہ برضائے زوجہ وطی یا خلوت کرلی گئی ہو کیونکہ ہر وطی مہر پر معقود ہوتی ہے،تو کچھ دے دینے سے باقی کو بھی دے دینا ثابت نہیں کرتا،یہ منع کا حق اس واسطے ہے کہ عورت وُہ مہر وصول کرلے جس کا جلد دینا بیان ہوچکا وہ کل مہر ہو یا بعض،یااس قدر مہر وصول کرلے جتنا اس جیسی عورتوں کو عرف میں جلد دیا جاتا ہے فتوٰی اسی پر ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع