30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
شوہر کو ہر وقت زوجہ کے مہر میں زیادت کرنے کا اختیار ہے اور اب مہر یہی قرار پائے گا جو بعد اس زیادت کے مقرر ہُوا اور اس کے لئے تجدید نکاح کی حاجت نہیں،بلاتجدید بھی زیادت کرسکتا ہے،نہ گواہوں کی ضرورت تنہائی میں باہم اضافہ کرلینا صحیح ہوجائے گا،نہ زیادت جنسِ مہر سے ہونی لازم،خلافِ جنس بھی صحیح ہے،مثلًا روپے مہرتھے اب کوئی جائداد اضافہ کردی وُہ روپے اور یہ جائداد سب کا مجموعہ مہر ہوجائے گا،نہ اگلے مہر کا صرف تین ٣ شرطیں درکار ہیں،دو٢ بالاتفاق۔ایک١تو اُس زیادت کا معلوم ومعین ہونا مثلًایہ کہا کہ میں نے تیرے نے تیرے مہر میں کچھ بڑھا دیا تو یہ زیادت باطل دوسرے٢اسی جلسہ میں عورت کا اسے قبول کرلینا،اگر عورت نے قبول نہ کیا یا بعد مجلس بدلنے کے قبول کیا زیادت صحیح نہ ہوگی۔تیسری٣"شرط مختلف فیہ"بقائے نکاح ہے اگر بعد زوال نکاح بموت زوجہ یا طلاق بائن یا انقضائے عدّت بعد طلاقِ رجعی زیادت کی تو ایك روایت پر صحیح نہ ہوگی۔نہرالفائق میں اسی کو ظاہر الروایۃ قرار دیا۔درمختار میں ہے:
|
زید علی ماسمی فانھا تلزمہ بشرط قبولھا فی المجلس اوقبول ولی الصغیرۃ ومعروفۃ قدرھا وبقاء الزوجیۃ علی الظاہر نھر[1] |
اگر مقررہ مہر پر زیادہ کیا ہوتو خاوند پر یہ زائد مہر لازم ہوجائےگا بشرطیکہ بیوی نے مجلس میں قبول کرلیا ہو یا اس کے ولی نے جب یہ نابالغہ ہو۔اور مقدار بھی معلوم ہو اور زوجیت کا موجود رہنا بھی شرط ہے ظاہر مذہب میں،نہر۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
افادا نھا صحیحۃ ولو بلاشھود او بعد ھبۃ المھر والابراء ومن غیر جنسہ بحر،وفی انفع الوسائل لایشترط فیھا لفظ الزیادۃ بل تصح بلفظھا وبقولہ |
اس عبارت نے یہ فائدہ دیا کہ یہ زیادتی جائز ہے خواہ گواہوں کے بغیر اور مہر ادا کردینے کے بعد یا مہر سے معاف کرنے کے بعدہو،یہ زیادتی جنس مہر سے ہویا غیر جنس مہر سے ہو، بحر۔ اور انفع الوسائل میں ہے اس کے لئے"زیادہ"کا لفظ بھی ضروری نہیں بلکہ اس لفظ سے اور اس قول سے بھی صحیح ہے کہ میں نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع