دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 12 | فتاوی رضویہ جلد ۱۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۲

جبرًا واپس لے سکے گا اور بلاتملیك شوہر عورت کے برتنے،پہننے،استعمال کرنے سے مِلِك عورت ثابت نہیں ہوسکتی البتہ گھر میں پہننے کے کپڑے جن کا دینا بحکمِ نفقہ شوہر پر واجب ہو چکا ہو وُہ دے کہ اگر دعوٰی کرے کہ میں نے عورت کو مالك نہ کیا تھا اس میں شوہر کا قول معتبر ہونا چاہے۔عقودالدریہ میں ہے:

قال فی البحر وفی البدائع اقررت بالزوجھا ثم ادعت الانتقال الیھا لایثبت الانتقال الابالبینۃ اھ،ولابد من بینۃ علی الانتقال الیھا منہ بھبۃ او نحو ذٰلك ولایکون استمتاعھا بمشریہ ورضاہ بذٰلك دلیلا علی انہ ملکھا ذٰلك کما تفھمہ النساء والعوام وقدافتیت بذٰلك مرارا،وینبغی تقییدہ بمالم یکن من ثیاب الکسوۃ الواجبۃ علی الزوج اھ١ [1] ملخصًا۔واﷲتعالٰی اعلم۔

بحر میں فرمایا کہ بدائع میں ہے کہ بیوی نے خاوند کی ملکیت کا اقرار کیا اور پھر اس کے اپنی طرف منتقل ہوجانے کا دعوٰی کیا تو اب بیوی کی ملکیت شہادت کے بغیر ثابت نہ ہوگی اھ،گواہ ضروری ہیں کہ شوہر نے بذریعہ ہبہ وغیرہ عورت کو مالك کردیا بیوی کا خاوند کی خریدی ہُوئی چیز سے فائدہ پانا اگر چہ خاوند کی رضا مندی سے ہو،یہ بیوی کی ملکیت کی دلیل نہیں بن سکتا جیسا کہ عام طورپر عورتیں اور عوام سمجھ لیتے ہیں کہ یہ خاوند کی طرف سے ملکیت کردی گئی ہے میں نے کئی باریہ فتوٰی جاری کیااھ یہاں یہ قید مناسب ہے کہ وُہ دی ہُوئی چیز  پہننے کے کپڑے نہ ہوں جن کا دینا شوہر پر واجب ہوچکا تھا اھ ملخصًا (ت)واﷲتعالٰی اعلم

مسئلہ٢٥:                                از کٹرہ ڈاك خانہ ادیرہ ضلع گیا مرسلہ مولوی سیّد کریم رضا صاحب غرہ           جمادی الآخرہ ١٣١٧ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص جاہل نے بدون طلاق اپنی زوجہ کی رضاعی بہن سے نکاح کرلیا،جب اس کو معلوم ہوا کہ جمع بین الاختین حرام ہے تب اس نے ثانیہ کو طلاق دینا چاہا،ثانیہ نے کہا کہ مجھ کو طلاق دینا چاہتے ہو تو میرا مہر ادا کرو۔تو اس صورت میں بہ سبب ناجوازی نکاح  زوجہ ثانیہ کے زوجہ ثانیہ کے حق میں صرف تفریق ہی معتبر ہ یا اس پر طلاق واقع ہوگا اور مہر زوجہ ثانیہ زوج پر باوجود عدم جوازِ نکاح لازم آئے گا یا نہیں؟ بینواتوجروا

الجواب:

ایك بہن جب  نکاح میں ہو تو دوسری سے نکاح نکاح ِ فاسد ہے،متارکہ یعنی چھوڑ دینا جُدا کردینا واجب ہے،اور وہ طلاق نہیں بلکہ فسخ ہے،یہاں تك کہ اگر الفاظِ طلاق کہے گا جب بھی متارکہ ہی ٹھہرے گا طلاق


 

 



[1] عقودالدریۃ  کتاب الفرائض حاجی عبد الغفار وپسران تاجرانِ کُتب قندھار افغانستان ٢/٣٥٠

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن