30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٢٤: از ریا ست ریواں محلہ گھوگھر مرسلہ عبد اﷲخاں صاحب چاہك سوار ١٠صفر ١٣١٦ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ منکوحہ ہندہ کو باشتباہِ زنا اپنے مکان سے نکال دیا،چار ماہ سے زائد ہوتا ہے کہ نان نفقہ مطلقًا نہ دیا،قریب ایك ماہ کے ہوتا ہے کہ جلسہ واحد میں تین طلاق دئے مگر نہ رُوبرو عورت کے بلکہ دوسرے اشخاص کے۔دین مہر عورت کا صہ۴ ِ پایا تھا شوہر نے قطعہ مکان مالیتی صہ بعوض دین مہر رجسٹری کرا کردخل دے دیاتھا' اب بے دخل کرکے نکال دیا اپنے دئے ہُوئے زیورات کا مسمّاۃ سے بجبر واکراہ بنالش کچہری دعودیدار ہے۔پس صورتِ مسئولہ میں آیا مرد مجاز ہے کہ علاوہ دین مہرکے جو اشیاء ازقسم زیورات وغیرہ عورت کو بنوادیا تھا جبرًا واپس لے سکتا ہے یا نہیں؟ جواب بحوالہ کتبِ معتبرہ مع ترجمہ عبارتِ عربی جلد مرحمت فرمایاجائے۔بینواتوجروا
الجواب:
تین طلاقیں ہوگئیں،عورت کے رُوبرو ہونا کچھ شرط نہیں،قطعہ مکان کہ بعوض دین مہر دیاتھا مِلك عورت ہے عورت بذریعہ نالش واپس لے سکتی ہے،علاوہ مہرجو اشیاء مثل زیور وغیرہ زید نے ہندہ کو دیں اگر گواہان عادل شرعی یا اقرار زید سے ثابت ہوکہ وُہ چیزیں زید نے ہندہ کو ہبہ کردی تھیں تو زید ان کی واپسی کا اختیار نہیں رکھتا۔فتاوٰی قاضی خاں وفتاوٰی عالمگیری میں ہے:
|
اذا وھب ازوجین لصاحبہ لایرجع فی الھبۃ وان انقطع النکاح بینھما[1]۔ |
جب میاں بیوی نے ایك دُوسرے کوکوئی ہبہ دیا تو رجوع کا اختیار نہیں اگر چہ بعد کو نکاح منقطع ہوجائے۔(ت) |
یُونہی جس چیز کی نسبت اُس کی مالك سمجھی جاتی ہےں اُس میں بھی زید کو اختیار ِ واپسی نہیں۔علماء فرماتے ہیں:المعھود عرفا کالمشروط نصًا(عرف میں ثابت ایسے ہے جیسا کہ نص کرکے مشروط کیا ہو۔ت)مگرجبکہ اس قسم دوم کی چیز میں زید گواہان شرعی سے ثابت کردے کہ میں نے دیتے وقت جتادیا تھا کہ برتنے کے لئے دیتا ہوں تجھے مالك نہیں کرتا،تو البتہ وُہ چیز ملك شوہر سمجھی جائے گی اور وُہ بالجبر واپس لے سکتا ہے۔علماء فرماتے ہیں:الصریح یفوق الدلالۃ(صراحت کو دلالت پر فوقیت حاصل ہے۔ت)اسی طرح زیور کپڑا وغیرہ ہر وُہ چیز کہ شوہر نے دی اور تملیك صراحۃً خواہ عرفًا کسی طرح ثابت نہ ہُوئی اس میں بھی قول شوہر کا معتبر ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع