30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حدیث المثاقیل المصر اھ بان العقد انم وقع علیھا لاعلی الدرع ولاعلی الدراھم ولذا لم یذکرالاقولین کما رأیت۔ |
انداز اس حدیث سے ذہول کی وجہ سے اختیار کیا جس میں مثاقیل کے باری میں تصریح ہے کہ نکاح ان پر ہُوا نہ کہ زرہ پر،اور نہ ہی دراہم پر ہوا۔اسی لئے انہوں نے صرف دو٢ قول ہی ذکر کئے جیسا کہ آپ کومعلوم ہے(ت) |
مثقال ساڑھے چار ماشہ ہے،اور یہاں کا روپیہ سواگیارہ ماشے،تو چار سومثقال کے پورے ایك سوساٹھ١٦٠ روپے ہُوئے فاحفظہ فلعلك لاتجد ھذاالتحریر فی غیر ھذاالتحریر(اس کو محفوظ کرلو'ہوسکتا ہے کہ آپ کویہ تحریر دوسری جگہ نہ ملے۔ ت)واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢١: ازپیلی بھیت محلہ بشیرخاں مسئولہ احمد حسین خاں صاحب آنریری مجسٹریٹ ٢٣صفر ١٣١٤ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت مسلمان سے ایك مسلمان کانکاح ہوا،اُس کے بعد نکاح کنندہ کو معلوم ہُوا کہ اُس عورت کے باپ سے مجھ کو رشتہ شِیر خوارگی ہے یعنی میری ماں نے اس کے باپ کو دُودھ پلایا ہے اور اس زمانہ میں بوجہ عدم واقفیت ہمبستری بھی ہوگئی،ایسی صورت میں نسبت جواز نکاح کے کیا حکم ہوگا اور مہر کی نسبت کیا حکم فرمایا جائے گا؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
جبکہ امر مذکور معلوم وثابت ہولیا تو ظاہر ہُوا کہ وُہ عورت اس شخص کی بھتیجی ہے اور نکاح ناجائز وفاسد،
|
فی ردالمحتار یحرم من الرضاع اصولہ وفرعہ وفروع ابویہ وفروعہ[1]۔ |
ردالمحتار میں ہے کہ رضاعت سے اس کے اصوال وفروع اور اس کے والدین کے فروع اور فروع کے فروع ہوجاتے ہیں۔(ت) |
اس پر فرض ہے کہ فورًا اسے ترك کردے اور اُس جُدا ہوجائے زبان سے کہہ دے کہ میں نے تُجھے چھوڑا یا تیرے نکاح کو ترك کیا،
|
فی ردالمحتار فی البزازیۃ،المتارکۃ فی الفاسد بعد الدخول لاتکون الابا لقول کخلیت سبیلك او ترکتك [2]الخ۔ |
ردالمحتار میں ہے بزازیہ میں ہے کہ نکاح فاسد میں دخول کے بعد متارکہ کہ صرف قول(مثلًا میں نے تیرا راستہ آزاد کیا یا تجھے چھوڑ دیا ہے)سے ہوتا ہے الخ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع