30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اختلف فی صداقھا رضی اﷲتعالٰی عنھا کیف کان' فقیل کان الدر ولم یکن اذ ذاك بیضاء ولاصفراء وقیل کان اربع مائۃ وثمانین و وردمایدل کلا اقولین ویشبہ ان العقد وقع علی الدرع وانہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اعطا ھا علیا لیبیعھا فباعھا واتاہ بثمنھا فلاتضاد بین الحدیثین [1]اھ ملخصا |
حضرت فاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا کے مہر کے متعلق اختلاف ہے کہ کی تھا،بعض نے کہا کہ زرہ تھی اوردرہم یا دینار نہ تھے اور بعض نےکہا کہ چار سواسّی ٤٨٠درہم تھے۔دونوں باتوں پر دلالت کرنیوالی مناسب اور مشابہ بات یہ ہے کہ نکاح کا انعقا زرہ پر ہُوا اور بعد میں حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے وہی زرہ حضرت علی رضی اﷲعنہ کو دے دی کہ فروخت کردو،تو اُنہوں نے فروخت کرکے قیمت آپ کو پیش کردی،تو دونوں حدیثوں میں تضاد نہ رہا اھ ملخصًا(ت) |
اور پُر ظاہر کہ روایت مسندہ ثانیہ کے الفاظ ہی خود اس تطبیق کے شاہد ہیںولہذاعلامہ زرقانی نے شرح مواہب لدنیہ میں کلامِ طبری نقل کرکے فرمایا:
|
ھذا الجمع مدلول الحدیث السابق[2]۔ |
یہ پہلی حدیث کا مدلول ہے جو دونوں کوجمع کرتا ہے۔(ت) |
اور روایت ثالثہ سے ان کی یُوں کہ حدیث زرہ کو ہمارے علمائے کرام نے مہرِ معجل پر محمول فرمایا جو وقت زفاف اقدس ادا کیا گیا۔
|
قلت ویشھد لہ ایضا الحدیث المذکور حیث ذکر انہ جاء بالدراھم فامرصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بشراء الطیب وان تجھز وقال لعلی ماقال فان ذٰلك انما کان حین زفت لاحین العقد کما لایخفی۔ |
میں کہتا ہوں کہ اس پر مذکورہ حدیث بھی شاہد ہے،جس میں ذکر ہُوا کہ حضرت علی کرم اﷲوجہہ الکریم نے دراہم پیش کئے تو حضورعلیہ الصّلٰوۃ والسلام نے خوشبو اور جہیز خرید نے کا حکم فرمایا اور حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے جو گفتگو فرمائی وُہ زفاف کے وقت ہے نہ کہ نکاح کے وقت کی،جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔(ت) |
مولانا علی قاری مرقاۃ میں زرہ کی نسبت فرماتے ہیں دفعھا الیھا مھرا معجلا [3]یہ مہر معجل کے طور پر دی گئی تھی۔ت) امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
[1] شرح الزرقانی علی المواہب بحوالہ ذخائر العقبٰی ذکر تزویجِ علی بفاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا دارالمعرفۃ بیروت ٢/٦
[2] شرح الزرقانی علی المواہب بحوالہ ذخائر العقبٰی ذکر تزویجِ علی بفاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا دارالمعرفۃ بیروت ٢/٦
[3] مرقاۃالمفاتیح کتاب النکاح باب الصداق فصل ثانی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ٦/٣٦٠
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع