30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعالٰی عنہ [1]فاقول: لایلتئم لما علمت انھا بیعت باربعما ئۃ وثمانین درھما تسعۃ عشر مثقالا من الذھب لاتبلغ بسعرذاك الزمن المبارك الامائۃ وتسعین درھما اذکل دینار مثقال وکل دینار بعشرۃ دراھم نعم یجوز ان یکون ھذا التقدیر ببعض الاسعار الواقعۃ فی البلدۃ الکریمۃ فی بعض الازمنۃ المتأخرۃ واﷲتعالٰی اعلم،وکذاماحاول ھو رحمہ اﷲ تعالٰی من الجمع بین تقدیری الدراھم والمثاقیل بان عشرۃ دراہم سبعۃ مثاقیل مع عدم اعتبار الکسور [2]۔فاقول: لایتجۃ ایضا فان اربعمائۃ مثقال فضۃ علی ھذا خمس مائۃ واحد وسبعون درھما کسر، واربع مائۃ وثمانون درھما ثلث مائۃ ستۃ وثلاثون مثقالا فلکسر فی الاول ازید من النصف فلایحذف وفی الثانی اقل فلایرفع علی انہ لامعنی یحذف وفی الثانی اقل فلایرفع علی انہ لامعنی لاسقاط الزیادۃ فی الدراہم والقصر علی ثمانین بلا لو کان لقیل خمسمائۃ کام لایخفی فلیتأ مل لعل لکلا مہ وجھا اٰخر۔ |
قیمت تھی ۔فاقول:(تومیں کہتا ہوں۔ت)یہ بنتا نہیں جیسا کہ تجھے معلوم ہوچکا کہ وہ زرہ چار سواسّی ٤٨٠ درہم مین فروخت ہوئی تھی جب کہ ١٩مثقال سونا اس زمانہ مبارك کے بھاؤ سے صرف ایك سونوے ١٩٠ درہم کا بنتا ہے،کیونکہ ایك دینار مثقال کا اور ہر دینار دس١٠درہم کا تھا،ہاں ہوسکتا ہے کہ یہ اندازہ بعد کے زمانے میں مدینہ منورہ کے کسی بھاؤ کا ہو،واﷲتعالٰی اعلم۔اور یونہی ان کی وُہ تاویل جس میں وُہ درہم اور مثقال کے وزنوں کو جمع کرتے ہُوئے فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ دس١٠ درہم سات٧ مثقال میں کچھ کسریں ہوں جن کا اعتبار نہ کیا گیا ہو فاقول:(تو میں کہتا ہوں۔ت)یہ بھی قابلِ توجہ نہیں کیونکہ اس طرح چارسو٤٠٠ مثقال چاندی پانچسو اکہتر٥٧١ درہم اور کچھ کسر ہوتے ہیں اور چار سو اسّی ٤٨٠ درہم تین سوچھتیس ٣٣٦ مثقال ہیں تو پہلے میں کسر نصف سے زائد ہوئی جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،اور دوسرے میں نہایت ہی کم ہے تو اس کو قابل لحاظ نہیں کہا جاسکتا،اس کے علاوہ دراہم میں زیادتی کو ساقط کرنے اور صرف اس٨٠ پر اکتفا کرنے کاکوئی معنی نہیں ہے بلکہ اگر ایسا ہوتا تو پُورا پانچسو٥٠٠ کہنا چاہئے تھا،جیسا کہ مخفی نہیں ہے،غور کرو، ہوسکتا ہے انکے کلام کی کوئی دوسری وجہ بن سکے(ت) |
اب بتوفیقہ تعالٰی توفیق سُنئے،پہلی دو٢ روایتوں میں وجہِ تطبیق ظاہر ہے کہ مہر میں زرہ دی کہ چار سوا سّی ۴۸۰کو بکی،اب چاہے کہئے خواہ اتنے درم،حافظ محب الدین احمد بن عبد اﷲطبرین نے دونوں روایت میں اسی طرح توفیق کی،ذخائر العقبٰی فی مناقب ذوی القربٰی میں فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع