30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اصدق علی فاطمۃ درعا من حدید وعن عازم عن حماد بن زید عن ایّوب عن عکرمۃ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال لعلی حین زوجہ فاطمۃ اعطھا درعك الحطمیۃ[1]، قال الحافظ فی الاصابۃ ھذامرسل صحیح الاسناد [2]،وابوداؤد فی سننہ عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما قال لما تزوج علی فاطمۃ رضی اﷲتعالٰی عنھما قال لہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اعطھا شیئا قال ماعندی شئی قال این درعك الحطمیۃ [3]۔ واحمد فی مسند ہ من طریق ابن ابی نجیح عن قبیہ عن رجل سمع علیا یقول اردت ان اخطب الی رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ابنتہ فقلت مالی من شیئی ثم ذکرت صلتہ وعائدتہ وخطبتھا الیہ |
علی کرم وجہہ نے حضر ت فاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا کا مہر ایك لوہے کی درع دی،عازم سے انہوں نے حماد بن زید سے انہوں نے ایوب سے انہوں نے عکرمہ سے بیان کی کہ حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے جب حضرت فاطمہ کا حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہما سے نکاح کیا تو آپ نے حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے فرمایا تُو اپنی حطمی درِع(تلواروں کو توڑنے والی زرہ)مہر میں دے دے۔حافظ نے اصابہ میں کہا یہ حدیث مرسل صحیح ہے۔ابوداؤد نے اپنی سنن میں ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کہ حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے حضرت فاطمہ کا نکاح حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہما سے نکاح کیا تو فرمایا:اس کو مہر میں کُچھ دو۔تو انہوں نے عرض کی:میرےپاس کوئی چیز نہیں ہے۔تو حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے فرمایا:تیری حطمی زرہ کہاں ہے؟احمد نے اپنی مسند میں ابن ابی نجیح وہ اپنے والد اور انہوں نے ایك ایسے شخص سے روایت کیا جس نے حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے سُنا ہے کہ وُہ فرمارہے تھے کہ میرا ارادہ ہُوا کہ میں حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام سے آپکی صاحبزادی کا رشتہ طلب کروں تو مجھے خیال آیا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں،پھر مجھے آپ کی شفقت اور مہربانی یاد آئی،پس میں نے رشتہ طلب کیا تو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع