30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ مہر کب واجب ہو تا ہے، اگرمعجل ہو تو کس وقت؟خلوتِ صحیحہ مہرکے واسطے ضروری ہے یانہیں ؟ اور خلوتِ صحیحہ کس کو کہتے ہیں اس کی تعریف کیا ہے؟ بینو اتوجروا
الجواب:
مہر معجّل وُہ مہر یا پارہ مہر کا ہے جس کا ادا کرنا فورًا قرار پایا ہو خواہ از رُوئے شرط کہ نفس عقد نکاح میں تعجیل مذکور ہویا عقد کے بعد شرط تعجیل ٹھہری خواہ ازروئے عرف جبکہ وُہ شرط صحیح کے مخالف نہ واقع ہویہ مہر فورًا واجب الادا ہوتا ہے، یہاں تك کہ اس کے ادا سے پہلے شوہر عورت کو بے اس کی رضا کے ہاتھ نہیں لگا سکتا بلکہ رخصت نہیں کراسکتا، اور مؤجّل وہ جس کے لئے کوئی میعاد معیّن قرار دی گئی ہو مثلًا ایك سال، دس سال، یا جس قدر ٹھہرائیں، یہ اُس وقت واجب الادا ہوگا جب وعدے کا وقت آجائے اس سے پہلے عورت اس کا مطالبہ نہیں کرسکتی۔ جامع الرموز میں ہے :
|
المھر المعجل والمؤجل ان بینا ای بین فی العقد کلہ او بعضہ یکون معجلا او مؤجلا فذاك المبین واجب اداؤہ علی مابین١ [1]۔ |
مہر معجل اور مؤجل اگر بوقت عقد بیان ہوچکے ہیں یعنی تمام یا بعض معجل ہوگا یا مؤجّل ہوگا، تو اس بیان کے مطابق ادائیگی واجب ہوگی۔(ت) |
اور اگر مؤجل کہا اور کائی میعاد اصلًا نہ بیان کی تو وُہ طلاق یا موت تك مؤجل ٹھہرے گا اور بعد فرقت ہی واجب الادا ہوگا اس سے پہلے مطالبہ کا عورت کو اصلًا استحقاق نہیں۔ ردالمحتار میں ہے :
|
من اول الفروع المذکورۃ فی کتاب القضاء قبل باب التحکیم مسئلۃ عدم سماع الدعوی بعد مرور کذا سنہ، لامات زوج المرأۃ او طلقھا بعد عشرین سنۃ مثلًا من وقت النکاح فلھا طلب موخر المھر لان حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق لامن وقت النکاح٢ [2]۔ |
کتاب القضاء میں تحکیم کے باب سے قبل سب سے پہلا جزئیہ یہ مذکور ہ کہ اتنے سال گزرجانے کے بعد دعوٰی قابلِ سماعت نہیں ہوتا، اس پر تفریع یہ ہے کہ نکاح کے وقت سے مثلًا بیس۲۰ سال بعد خاوند فوت ہوجائے یا طلاق دے دے تو بیوی کو مؤخر شدہ مہر کے مطالبہ کا حق ہے، کیونکہ مہر مؤجل میں بیوی کو مطالبہ کاحق ہے، کیونکہ مہر مؤجل میں بیوی کو مطالبہ کا حق موت یا طلاق کے بعد ہی ہوتا ہے نکاح کے وقت سے مطالبہ کرنے کا حق نہیں۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع