30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں کہ وکیلِ نکاح نے وقتِ
نکاح اس مضمون کی صاف تصریح کردی بدرجہ اولٰی کسی کو اختیارِ مطالبہ نہیں۔
واﷲ سبحانہ، وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ١٦: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کا کہ زنا سے حاملہ تھی نکاح غیر زانی سے کہ اُسے اس کے حمل سے اطلاع نہ تھی ہوگیا، آیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اوریہ عذر مردکا کہ میں نے باکرہ سمجھ کر نکاح کیا تھا نہ حاملہ، اسقاطِ مہر کے لئے کافی ہے یا نہیں ؟ بینواتوجروا
الجواب:
صورت مسئولہ میں نکاح صحیح ہے اب نکاح کرنے کی ضرورت نہیں، مگر جس صورت میں حمل اس مرد سے نہیں رہا تو اُسے قبل از وضعِ حمل مباشرت اور اس کے دواعی اس عورت کے ساتھ جائز نہیں۔ درمختار میں ہے :
|
وصح نکاح حبلی من زنالاحبلی من غیرہ ای الزنا لثبوت نسبہ ولو من حربی او سیدھا المقربہ وان حرم وطؤھا اور دواعیہ حتی تضع١ [1]۔ |
زنا سے حاملہ کا نکاح صحیح ہے غیر زنا سے حاملہ کا نکاح صیحح نہیں کیونکہ اسکی نصب ثابت ہوگی خواہ حربی سے یا مالك سے جب وُہ اقرارکرے اگرچہ زنا کی حاملہ سے نکاح جائز مگر جماع اور دواعی حرام ہیں جب تك وُہ بچّہ کو جنم نہ دے۔(ت) |
اوریہ عذر کہ میں نے باکرہ سمجھ کر نکاح کیا تھا نہ کہ حاملہ، مہر کو ساقطنہ کرے گا کہ کفاء ت عورت کی طرف سے معتبر نہیں۔
کتا ب مذکور میں ہے :
|
لاتعتبر من جانبھا لان الزوج مستفرش فلاتغیظہ دناء ۃ الفراش وھذ اعند الکل فی الصحیح[2]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
عورت کی طرف سے کفاءت نہیں کیونکہ خاوند کے لئے بیوی بستر بنتی ہے تو اسے کمتر مفروش سے رنج وغیظ نہیں آتا۔ صحیح مذہب میں اس پر سب کا اتفاق ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ١٧: از ذخیرہ مسئولہ مولوی برکات احمد صاحب وکیل دیوانی
مولانا صاحب دام عنایتکم، سالم مسنون کے بعد عارض ہوں، ایك مسئلہ شرعی بتادیجئے، وُہ یہ ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع