دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 12 | فتاوی رضویہ جلد ۱۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۲

نکاح عمروکے ساتھ کرنا چاہا، وقت نکاح کے وکیلِ نکاح نے تعداد مہر کی مبلغ دس ہزار روپے اور دو٢ دینار سُرخ ظاہر کی، اس پر عمرو کی طرف سے لوگوں نے کہاکہ تعداد مہرکی بہت ہے، عمرو کی حیثیت اتنی بھی نہیں کہ دسواں حصّہ اس کا ادا کرسکے، تعداد مہر کی کم کرنا چاہئے، وکیلِ نکاح نے جواب دیا کہ تعدادِ مہر کم کرنے کا مجھ کو اختیار نہیں ہے مگر یہ مہر ایسا نہیں ہے جودونوں کی زندگی میں لیا دیاجائے، جبکہ اس مہر پر نکاح ہوگیا اور ہندہ باپ کے گہر سے آکر عمرو کے گھر دوتین مہینے رہی مگر بوجہ صغیرہ ونابالغہ ہونے ہندہ کے عمرو کو استمتاع وطی نہیں ہوا بعدہ، زید ہندہ کو بلا مرضی عمرو کے اپنے گھر لے گیا اور اب عمروکے گھر نہیں آنے دیتا ہے اور دعوٰی بعض مہر کا بہ ترك بعض مہر کے منجانب ہندہ کو بولایت پانے بوجہ نا بالغی ہندہ کے کرتا ہے پس اس صورت میں مہر عمرو سے دلایا جائے گا یا نہیں؟ بینواتوجروا

الجواب :

مہر میں جب نہ یہ شرط کی جائے کُل یا اس قدر پیشگی لیں گے جسے معجل کہتے ہیں، نہ اُس کے ادا کے لئے کوئی میعاد معیّن کی جائے، مثلًا سال دوسال، یا جو قرار پائے، جسے مؤجل کہتے ہیں، تو وہ عرفِ بلد پر رہے گا، جس شہرمیں عام طور پر یہ رواج ہوکہ مثلًا نصف یا ربع یاکسی قدر بغیر تصریح تعجیل کے بھی پیشگی لیتے ہیں وہاں اتنا پیشگی دینا ہوگا، اور جہاں عرف یُوں ہے کہ بے موت یا طلاق لینا دینا نہیں ہوتا وہاں جب تك زوجین میں کسی کا انتقال یا طلاق واقع نہ ہوا اختیارِ مطالبہ نہ دیں گے۔ مختصر الوقایہ میں ہے

المعجل والمؤجل ان بینا فذاك والافالمتعارف١ [1]۔

اگر مہر معجل و مؤجّل کی مدّت بیان کی گئی ہوتو بہتر ورنہ متعارف مراد ہوگا۔(ت)

ہمارے بلاد میں عام مہور بیان تعجیل وتاجیل سے خالی ہوتے ہیں اور رواج یہ ہے کہ اُس کے لزوم ادا کو موت یا طلاق پر موقوف رکھا جاتا ہے، پس صورتِ مسئولہ میں اگر وکیلِ نکاح اس مضمون کی تصریح بھی نہ کرتا کہ یہ وُہ مہر نہیں جو زندگی میں لیا دیا جائے تاہم پدرِ ہندہ بحالتِ نابالغی اور خود ہندہ بعد بلوغ تا وقتیکہ موت یا طلاق نہ ہو عمرو سے کسی جزوِ مہر کا مطالبہ نہیں کرسکتے،

ردالمحتار میں ہے :

حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق لامن وقت النکاح[2]۔

بیوی کو مہر کے مطالبے کا حق موت یا طلاق کے بعد ہوگا، نکاح کے وقت سے نہیں ہوگا۔(ت)

 


 

 



[1] مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ فصل اقل المہر نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ٥٦

[2] ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التر اث العربی بیروت ٤/٣٤٣

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن