30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وھو الطلاق اوالموت الایری ان تاجیل البعض صحیح وان لم ینص علی غایۃ معلومۃ کذا فی المحیط [1]۔ |
دیکھا نہیں کہ بعض مہر کو مؤخر کرنا صحیح ہے اگر چہ اس کی انتہا ئی مدت معلوم نہ ہو، محیط میں یونہی ہے۔(ت) |
فتاوٰی قاضی خاں میں ہے :
|
رجل تزوج امرأۃ بالف علی ان کل الالف مؤجل ان کان الاجل معلوما صح التاجیل وان لم یکن لایصح واذا لم یصح التاجیل یؤمر الزوج بتعجیل قدرما یتعارفہ اھل البلدۃ فیؤخذ منہ الباقی بعد الطلاق او بعد الموت ولایجبرہ القاضی علی تسلیم الباقی ولا یحبسہ[2]۔ |
ایك شخص نے عورت سے نکاح کیا ہزار مہر پر، اور مکمل ہزار مؤخر کیا، تو اگر انتہائی مدّت معلوم ہے تو صحیح ہے، اگر معلوم نہیں توصحیح نہیں، تو جب صحیح نہ ہو تو خاوند کو کہا جائے گا کہ عرف کے لحاظ سے جتنا ہوسکے فوری ادا کرو اور باقی اس سے طلاق یا موت کے بعد وصول کیا جائے گا،اور قاضی اس پر باقی کی وصول پرجبر نہ کرے گا اور نہ ہی اس کو قید کرے گا۔(ت) پس میعاد سے پہلے دین کا مطالبہ ہرگز روا نہیں ، نہ ایسا دعوی مسنوع ہوسکے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
مسئلہ ١٠: از سجول ضلع بہڑائچ مرسلہ شیخ عبد العزیز صاحب تاجر لٹھا ٧ رمضان ١٣١٠ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے بلاوجہ شرعی اپنی زوجہ ہندہ کوطلاق دیدی، جب ہندہ کے ولی یعنی خالد اس کے باپ نے زید سے مہر طلب کیا تو زید مدعی اس امر کا ہوا کہ میرا مہر دس درم کا تھا، اور صورت یہ واقع ہوئی ہے کہ تعداد مہر کی نہ ہندہ اور نہ اُس کے ولی خالد کو یاد ہے اور نہ قاضی نکاح خواں اور نہ وکیل کو یاد ہے اور نہ یہ امر یا د ہے کہ وقتِ نکاح کون کون گواہ مقرر ہُوئے تھے لیکن اُس قوم میں ادنٰی ادنٰی عورتوں کا بھی مہر کم درجہ پانچ سو روپے اور دو٢ دینارسُرخ اکثر ہیں اور دس١٠ درہم مہر جیسا کہ دعوٰی زید کا ہے اُس قوم میں کسی کا نہیں بلکہ غالبًا اُس شہر میں بھی جہاں یہ دونوں طلاق دہندہ اور مطلّقہ رہتی ہے شاید کسی کا بھی نہ ہو اور اسی اعتبار سے کہ اکثر عرف قوم میں ادنٰی درجہ پانچ سوروپے اور دو٢دینار سُرخ ہے، خالد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع