30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وتوارثا قبل الفسخ لان النکاح صحیح والملك بہ ثابت فان مات احدھما فقد انتہی النکاح سواء مات قبل البلوغ اوبعدہ لان الفرقۃ بینھما لاتقع الالقضاء القاضی فیتوارثان ویجب المھر کلہ و ان مات قبل الدخول الخ [1]۔ |
قبل از فسخ دونوں ایك دوسرے کے وارث ہوں گے کیونکہ نکاح صحیح ہے، اور اس سے ملکیت ثابت پس جب کوئی مرگیا تو نکاح تو مکمل ہو چکا، یہ موت بلوغ قبل ہویا بعد، کیونکہ ان میں فرقت ہوئی تو قضاء قاضی سے ہوتی، اس لئے آپس میں وارث بنیں گے اور پورا مہر لازم ہوگا اگر چہ دخول سے قبل مرا ہو الخ (ت) |
پس صورت مستفسرہ میں کل مہر مسمٰی ذمہ بکر لازم ہُوا جس میں نصف یعنی ایك ہزار روپئے کا وُہ خود وارث ہے بقیہ ورثاء ہزار روپے کا اس پر دعوٰی کرسکتے ہیں۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٩: ٢٠ رمضان المبارك ١٣٠٨ھ
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ زید بکر کی زوجہ منکوحہ کو اُس کی غیبت میں بھگا کرلے گیا اور اُس سے زناکر تا ہے اور واسطے براء ت الزام تعزیراتِ ہند کے دعوٰی دلاپانے دین مہر شرعی زوجہ بکر کی جانب سے بصیغہ دیوانی دائر کراکر بیان کرایا کہ مجھ کو بکر نے طلاق دے دی میرا مہر شرعی بکر زوج میرے سے دلایا جائے۔ اس صورت میں ازروئے شرع شریف زوجہ ہندہ مفرورہ وصول یابی مہر کا استحقاق ہے یا نہیں ،اور مہر ہندہ کا مؤجل ہے اور کوئی میعاد معیّن قرار نہ پائی اور بکر نے طلاق بھی نہیں دی۔ بینواتوجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں جب تك موت یا طلاق واقع نہ ہو عورت کو ہرگز مطالبہ مہر کا استحقاق نہیں کہ جب مہر مؤجل بندھا اور میعاد کی کوئی شرح بیان میں نہ آئی کہ سال بھر بعد ادا کیا جائے گا یا دس برس تو شرعًا اس کی میعاد موت یا طلاق قرار پاتی ہے،
فتاوٰی عالمگیری میں ہے :
|
لاخلاف لاحد ان تأجیل المھر الی غایۃ معلومۃ نحو شھر او سنۃ صحیح وان کان لاالی غایۃ معلومۃ فقد اختلف المشائخ فیہ قال بعضھم یصح وھوا لصحیح وھذ الان الغایۃ معلومۃ فی نفسھا |
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ مہر کے لئے مدّت مقرر کی جاسکتی ہے مثلًا مہینہ یا سال وغیرہ، یہ صحیح ہے اور اگر مدّت معلوم نہ ہو تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے، بعض نے فرمایا صحیح ہے، اور یہی اصح ہے کیونکہ انتہا معلوم ہے کہ وہ طلاق یا موت ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع