30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور نظر کی اکثر کتب پر بہت وسیع ہے اس واسطے صورتِ مسئلہ تحریر کی جاتی ہے، جواب سے جس قدر جلد مشرف فرمائے گا ممنون ہوں گا۔ بینو اتوجروا۔
الجواب:
اگر چہ موت احد الزوجین کے سبب مہر کا متأکدہوجانا اور تمام وکمال لازم آنا یونہی علی وجہ الاطلاق جمیع کتبِ مذہب متون وشروح وفتاوٰی میں مبین جس میں بالغ ونابالغ ودخول وعدمِ دخول کی اصلًا کوئی تقیید وتخصیص نہیں اور صرف اسی قدر جواب مسئلہ میں قطعًا بس تاہم اگر یہ صورت خاص معیّنہ ہی درکار ہے کہ عورت نابالغہ ہو اور ولی اس کا نکاح ایك مہر پر کردے اور وُہ قبل بلوغ شوہر نا دیدہ مرجائے تو یہ جزئیہ بھی بہت کتب میں صاف صاف مصرح اور حکم اس کا وہی کہ بوجہ موت کل مہر لازم بلکہ علماء نے اس صورت میں اس کی تصریح فرمائی کہ ولی مزوج غیر اب وَجد ہو جہاں نکا ح لازم نہیں ہوتا اور بعدبلوغ صغیر وصغیرہ کو اختیار طلب فسخ دیا جاتا ہے تو شاید کسی کو عدمِ تأکد کا توہم ہوتا نہ کہ تزویج پدر کہ قطعًالازم وناقابلِ فسخ ہے یہاں کسی کو بھی اُس کا وہم گزرنا اصلًا معقول نہیں۔ ملتقی الابحر اور اُس کی شرح مجمع الانہر میں ہے :
|
للولی انکح الصغیرہ والصغیرۃ فان مات احدھما ورثہ الاٰ خر بلغا اولا ویجب المہر کلہ وان مات قبل الدخول اھ[1]ملتقطا قلت و معلوم ان ضمیر مات الی احدھما الشامل للزوج والزوجۃ کما لایخفی۔ |
ولی کو نابالغہ لڑکے اور لڑکی کے نکاح کردینے کا اختیار ہے۔ پھر اگر دونوں میاں بیوی میں سے کوئی فوت ہوجائے تو دوسرا وارث ہوگا اور پورا مہر واجب ہوگا بالغ ہوں یا نابالغ، اگر چہ وہ دخول سے قبل ہی فوت ہوگیا ہو اھ ملتقطا قلت مات کی ضمیر دونوں سے ایك کے لئے ہے جو خاوند بیوی دونوں کو شامل ہے، جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے (ت) |
درمختار میں ہے :
|
یتورثان فیہ (یعنی الصغیر والصغیرۃ) ویلزم کل المھر[2]۔ |
اس صورت میں دونوں نابالغ لڑکا اور لڑکی باہم وارث بنیں گے اور پورا مہر لازم ہوگا(ت) |
تبیین الحقائق شرح کنز الدقایق میں ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع