30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وھوالذی اختارہ فی الدرالمختار ولکن ردھما فی الذخیرۃ بما اذاملك الزوجۃ قبل الدخول بشراء مثلاحیث ینفسخ االنکاح ویسقط المھر کلہ مع انھا فرقۃ جاء ت من قبلہ وحقق الضابطۃ بان کل فرقۃ جاء ت من قبلہ وھی طلاق فانھا تنصف و کل ما جاءت وھی فسخ فانھا تسقط وردہ فی البحربردۃ الزوج حیث تنصف کما علمت مع انہا فسخ جاء من قبلہ ثم قال فالحق ان لایجعل لھذہ المسألۃ ضابط بل یحکم فی کل فرد بما افادہ الدلیل اھ [1]ھذا ھوالذی حمل العبد الضعیف علی الاقتصار علی ذکر بعض الصور وعدم التعرض لضابط۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
ہوگا، اسی کو دُرمختار میں اختیار کیا، لیکن ذخیرہ میں اس کو ردکیا ہے مثلًا اگر کسی نے (لونڈی) بیوی کو دخول سے قبل خرید لیا اور اس کا مالك بن گیا تو یہ نکاح فسخ ہوگیا اور پورا مہر ساقط ہوا، حالانکہ وجہ فرقت خاوند کی طرف سے ہے، اس کے بعد انہوں نے نیا ضابطہ یہ بتایا کہ اگر خاوند کی طرف سے فرقت کی وجہ ہو اور وُہ وجہِ طلاق بنے تو مہر نصف ہوگا اور جو فرقت فسق بنے تو مہر ساقط ہوجائے گا، پھر اس ضابطہ کو بحر میں رَد کیا کہ جب خاوند مرتد ہوجائے تو قبل دخول مہر نصف ہوگا حالانکہ یہ فرقت مرد کی طرف سے فسخ ہے طلاق نہیں ہے، جیسا کہ تمہیں معلوم ہے، پھر بحر نے کہا کہ حق یہ ہے کہ اس مسئلہ کے لئے کوئی ضابطہ نہ بنایا جائے بلکہ ہر جزئیہ کا جواب اس کی دلیل کے مطابق علیحدہ دیا جائے اھ، اسی بناء پر اس عبد ضعیف نے بعض جزئیات کے ذکر پر اکتفاء کیا اور کسی ضابطہ کو بیان نہیں کیا ہے۔ واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ مجدہ اتم واحکم(ت) |
مسئلہ٨: از اٹاوہ قریب کچہری منصفی مرسلہ مولوی حبیب علی صاحب علوی ٢٠ذی الحجہ ١٣٠٧ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی اس صورت میں کہ زید نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح شرعی دوہزار روپے مہر پر بکر بالغ کے ساتھ کیا، قضارا دختر مذکورہ بعد نکاح کے ایامِ نابالغی میں زید کے گھر مرگئی اب زید پدر ودیگر وارثانِ شرعی متوفاۃ مذکورہ کو دعوی مہر مذکور کا بکر شوہر دختر متوفاۃ پر شرعًا پہنچتا ہے تو کس قدر کا، بحوالہ کتب معتبرہ فقہ حنفی جواب مرحمت ہو، گو اس مسئلہ کا جواب اصول سے بہت صاف دیاجاسکتا ہے مگر مستفتی کو اصرار کہ بحوالہ کتاب اس صورت خاص میں حکم دیا جائے۔ میرے پاس جو کتابیں ہیں ان میں باوصف تلاش یہ صورتِ خاص نہ ملی، چونکہ آپ کا کتب خانہ بہت بڑا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع