30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پس اگرزید نے بلاشرط معافیِ مہر طلاق دی تھی تو بیشك ہندہ پر طلاق بائن واقع ہوئی جس کے سبب وُہ زید کے نکاح سے نکل گئی اور ازانجا کہ ہنوز خلوت نہ ہُوئی تھی عدّت کی بھی حاجت نہیں،
|
فی مجمع الانہر طلق غیرالمدخول بھا بانت لاالٰی عدۃ١[1]اھ ملتقطا۔ |
مجمع الانہر میں ہے : غیر مدخول بہا کو طلاق دی تو عورت بائنہ ہوجائے گی اور عدت نہ ہوگی اھ ملتقطا(ت) |
اوراس لئے نصف مہرِہندہ ز ید پر واجب الادا، جس کے دعوٰی کا اسے ہر وقت اختیار،
|
اذا لاحالۃ تنتظر بعد الافتراقٍ بموت اوطلاق ۔ |
کہ موت یا طلاق کی وجہ سے افتراق کے بعد کوئی قابلِ انتظار نہیں۔ (ت) |
اور اگر اُس نے یُوں کہا کہ میں نے ہندہ کو اس شرط پر طلاق دی کہ مجھے مہر معاف ہوجائے تو صورتِ مسئولہ میں نہ مہر معاف ہُوا نہ طلاق پڑی اذا فات الشرط فات المشروط(جب شرط فوت ہوجائے تو مشروط بھی فوت ہوجاتا ہے۔ت)اس تقدیر پر دعوی مہر میں حکم ہوگا جو عورت کو بحالتِ زوجیت دیاجاتا ہے کہ مہر معجل ہوتو فی الفور لے سکتی ہے اور کُچھ وعدہ مقرر ہُوا ہوتو میعاد معلوم تك نہیں مانگ سکتی اورکچھ نہ ٹھہر اہوتو اُس شہر کے رواج پر چھوڑیں گے یعنی ایسی حالت میں جو وہاں کا عُرف ہو اُسی پر عمل ہے،
|
فی النقایۃ المعجل والمؤجل ان بینا فذاك والا فالمتعارف [2]۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
نقایہ میں ہے کہ اگر مہر معجل یا مؤجّل بیان کرے تو بہتر ورنہ جوعرف میں ہو وہ ٹھہریگا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ٤: ٣٠ ربیع الاول ١٣٢٧ھ از سہوان مرسلہ حافظ علی محمد صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کا نکاح اُس کی رضاعی بہن کے ساتھ بوجہ لاعلمیت کے ہُوا اور وُہ اس کے تصرف میں بھی رہی، تو اس صورت میں زید پر دین مہر واجب الادا ہے یانہیں؟
الجواب:
صورتِ مسئولہ میں پُورا مہر مثل واجب ہے اگر چہ مہر مسمی سے زائد ہو، ردالمحتار وطحطاوی علی الدرالمختار میں زیرِ قول شارح ویجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطی ولمیزد علی المسمی لرضاھا بالحط (نکاحِ فاسد وطی کرلینے سے مہر مثل واجب ہوتا ہے اور وہ مقررہ سے زائد نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ ساقط
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع