30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
العلامۃ الطحطاوی فی مبحث اوقات الصّلٰوۃ۔ |
علامہ طحطاوی نے ان دونوں عبارتوں کو اوقاتِ صلٰوۃ کی بحث میں ذکر کیا ہے(ت) |
پھر یہ ضعیف دلیل جسے علماء مبیح عدول فرماتے ہیں اس کے معنی بھی سمجھ لیجئے یہ وُہ ہے کہ اعاظم ائمہ مجتہدانِ فتوٰی اُس کے ضعف پر تنصیص کریں، نہ وُہ جسے من وتو اپنے اذہان قاصرہ سے ضعیف سمجھ لیں کہ اوّل تو یہ دلائل جو مصنفین لکھتے ہیں کیا معلوم امام کی نظر انہیں پر تھی اورہو بھی تو ہم کیا اور ہمارا ضعیف سمجھنا کیا ؎
گدائے خاك نشینی تو حافظا مخروش
نظام مملکت خویش خسرو اں دانند
(اے حافظ! گدائے خاك نشین کو مت چھیڑ کہ ملك کے نظام کو چلانا خود بادشاہ ہی جانتا ہے)علامہ طحطاوی فرماتے ہیں :
|
انہ قد یظہر قوۃ لہ بحسب اداراکہ ویکون الواقع بخلافہ او بحسب دلیل ویکون لصاحب المذہب دلیل اٰخر لم یطلع علیہ انتہی[1] |
بھی امام کی دلیل کی قوت ظاہر ہوتی ہے جس کا ادراك کرلیا جاتا ہے اور واقع میں اس کے خلاف ہوتا ہے، یا یہ ہوتا ہے یہ کچھ دلیل سمجھے حالانکہ صاحبِ مذہب(امام صاحب) کی دلیل کچھ اور ہے جس پر اطلاع نہ ہوئی انتہی(ت) |
اب مجھے اس تحقیق انیق کے بعد اصلًا ضرورت نہ رہی کہ امر پنجم کی طرف تو جہ کروں، میرا یہی کلام ہرگونہ دلائل کے جواب میں بس ہے معہذا جو کچھ اُس میں بیان ہُوا اُسی دلیل سے ماخوذ ہے جو ہدایہ وشرح وقایہ و کافی و اختیار ومستخلص وغیرہا میں مذہبِ صاحبین پر ظاہر کی گئی اور اُس کے ساتھ ہی انہیں کتابوں میں اُس کا نفیس جواب بھی دے دیا جہاں تك میری نظر ہے کوئی کتاب مستند ایسی نہ ملے گی جس میں یہ تقریر مسطور اور اُس کا جواب نہ مذکور ہو میں یہاں صرف درمختار کے وُہ مختصر لفظ جو اُنہوں نے امام صدر الشریعۃ وغیرہ سے اخذ کرکے لکھے نقل کرنا کافی سمجھتا ہوں دلیل امام میں فرماتے ہیں :
|
کل طاۃ معقود علیہا فتسلیم البعض لایوجب تسلیم الباقی [2] |
ہر وطی مہر کا بد ل ہے تو بعض مہر کا سونپنا باقی کے سونپنے کا موجب نہیں بنتا ہے۔(ت) |
اس مرام نفیس کی توضیح و تلخیص یہ ہے کہ بیع عین پر وارد ہوتی ہے وُہ ایك بار سپرد ہوکر کیا باقی ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع