30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المبارك یؤخذ بقول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالٰی لانہ کان من التابعین وزاحمھم فی الفتوی١[1]۔ |
کے قول کے مطابق امام ابوحنیفہ کا قول قابل عمل ہوتا ہے کیونکہ وہ تابعی ہیں اور دیگر تابعین کے فتاوٰی کے مقابل اُنہوں نے فتاوٰی پیش کئے۔(ت) |
تنویرالابصار میں ہے :
|
یاخذ بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق [2]۔ |
قاضی مطلقًا امام ابوحنیفہ کے قول کو لے گا۔(ت) |
درمختار کا منیہ وسراجیہ سےنقل کرنا گزرا ھوا لاصح( وہی زیادہ صحیح ہے۔ت) اور یہ بھی کہ القاضی کا لمفتی ( قاضی کی مثل ہے۔ت) اور یہ بھی کہ نہر الفائق میں اسی کو اضبط کہا، اسی کی کتاب ادب المقا ل میں تصحیح کی، کما فی الحاشیۃ الطحطاویۃ(جیسا کہ حاشیہ طحطاوی میں ہے۔ت) اسی پر امام محقق علی الاطلاق نے جزم فرمایا، اور بعض مشائخ جو کہیں قولِ صاحبین پر افتاکردیتے ہیں اُسے بلاوجہ قوی محض نا مقبول ٹہرایا۔ حاشیہ شامیہ میں ہے :
|
ردالمحقق ابن الھمام علی بعض المشائخ حیث افتوابقول الامامین بانہ لایعدل عن قول الامام الالضعف دلیلہ[3]۔ |
بعض مشائخ نے صاحبین کے قول پر فتوٰی دیا تو محقق ابن ہمام نے ان کا رَدکرتے ہوئے فرمایا کہ امام ابوحنیفہ کے قول سے اعراض نہیں کیا جاسکتا الّایہ کہ ان کی دلیل کمزور ہو۔(ت) |
بحرالرائق میں ہے :
|
قد صححوا ان الافتاء بقول الامام فینتج من ھذا انہ یجب علینا الافتاء بقول الامام وان افتی المشائخ بخلافہ [4]اھ نقلہ العلامۃ الطحطاوی اول القضا۔ |
مشائخ نے تصحیح فرمائی ہے کہ فتوٰی امام صاحب رحمہ اﷲتعالٰی کے قول پر ہے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم پر امام کے قول پر فتوٰی دینا واجب ہے اگر چہ مشائخ نے قولِ امام کے خلاف فتوٰی دیا ہواھ اس کو طحطاوی نے باب قضاء کی ابتداء میں نقل کیا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع