30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بحرالرائق میں فرمایا:
|
یجب علینا الافتاء بقول الامام وان افتی المشائخ بخلافہ[1]۔ |
ہم پر امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲعلیہ کے قول پر عمل واجب ہے اگر چہ مشائخ اس کے خلاف پر فتوٰی دے چکے ہوں۔ (ت) |
اور ایسا ہی فتاوی خیریہ میں ہے خصوصًا صورت مسئولہ میں جبکہ تقریر سوال سے ظاہر کہ زید کی طرف سے سوء معاشرت ہندہ کے ساتھ واقع ہوئی تو یہاں تو ایك اور فتوٰی قولِ امام کے موافق ہے تہذیب میں کلامِ امام ابوالقاسم نقل کرکے فرماتے ہیں :
|
المختار عندی فی المنع ان کان سوء المعاشرۃ من الزوج لھا المنع وان کان من جھتہا فلیس لھا المنع وفی السفر قول ابی حنیفۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ٢ [2]۔ |
میرے نزدیك منع کے بارے میں مختار یہ ہے کہ اگربد اخلاقی خاوند کی طرف سے ہوتو بیوی کو منع حق ہے اور اگر بد اخلاقی بیوی کی طرف سے ہوتو پھر اس کو حق نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو خاوند سے روك رکھے، سفر کے بارے میں فتوٰی امام صاحب رحمہ اﷲتعالٰی کے قول پر ہے(ت) |
اسی طرح فتاوٰی ابراہیم شاہی وفتاوٰی حمادیہ میں اس سے نقل کیا، یہ ہے اس بارے میں کلام اجمالی،اور قدرے تفصیلی ان مباحث کی ہمارے فتوائے ثانیہ میں آتی ہے وباﷲالتوفیق، بالجملہ صورت مستفسرہ میں عند التحقیق مفتی وقاضی کے لئے قولِ امام ہی پر اعتماد ہے ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
جواب سوال دوم
اقول: وباﷲالتوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق اس تقریر میں امر اول ایك سخت حیرت انگیز بات ہے، درمختار میں اس مطلب کا کہیں پتا نہیں بلکہ اس میں صراحۃً اس کا خلاف مصرح کتاب القضا میں فرماتے ہیں :
|
یاخذالقاضی کالمفتی بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق٣ [3]۔ |
قاضی بھی مفتی کی طرح مطلقًا امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالٰی کا قول لے گا۔(ت) |
پھر منیۃ المفتی وفتاوٰی سراجیہ سے نقل کیا ہو الاصح٤ [4](وہی زیادہ صحیح ہے۔ت) ہاں ایك قول حاوی قدسی سے یہ لائے کہ وقت دلیل پر مدار ہے پھر اُسے بھی برقرار نہ رکھا، اور نہر الفائق سے نقل فرمایا : الاول اضبط[5] (وہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع